پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کیلئے تیارہے، اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کابلوم برگ کوانٹرویو

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کیلئے تیارہے، اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔ انہوں نے یہ بات بلوم برگ کوانٹرویو میں کہی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی، حکومت اس بات …

اسلام آباد۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کیلئے تیارہے، اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔ انہوں نے یہ بات بلوم برگ کوانٹرویو میں کہی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی، حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، مہنگائی، شرح سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکائونٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے،روپے پر فوری دبائو نہیں ہے، کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور خدمات کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التواکا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہے۔ قومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے۔ اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آئوٹ سورس کرنے اور تقریباً دو درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا، کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔دریں اثنابلوم برگ نے اپنے تبصرے میں کہاہے کہ پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے اوراس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں استحکام آیا ہے جبکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اورخاص طور پر معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔

بلوم برگ کے مطابق پاکستان 2022ء کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا تاہم آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں۔ مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کرسنگل ڈیجٹ کی سطح پر آ چکی ہے۔ حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔