نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان چین کی قیادت میں قائم ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن۔ WACO) میں شامل ہو گیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شفافیت، کشادگی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تنظیم …
پاکستان چین کی قیادت میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا رکن بن گیا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان چین کی قیادت میں قائم ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن۔ WACO) میں شامل ہو گیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شفافیت، کشادگی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تنظیم میں تقریباً 50 ارکان شامل ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان نے بھی اس کی تاسیسی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کا صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں قائم ہوگا اور اس کے پہلے کونسل اجلاس کا انعقاد دسمبر کے وسط میں متوقع ہے۔دریں اثنا، وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ حکومت قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد کے لیے نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے پروگرام جاری ہیں، جبکہ وظائف سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ سینیٹر کو فراہم کی جائیں گی۔
مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور پاکستان اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال، جعلی خبروں، پروپیگنڈے، دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سائبر جرائم سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سائبر کرائم ونگ کی جگہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) قائم کی گئی ہے۔








