پاکستان نے اسلاموفوبیا کو نفرت انگیز تقاریر کی شدید ترین شکلوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس ذہنیت کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے جو انسانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کو ہوا دیتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزتہ روز اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں بین المذاہب اور بین …
پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی اقدام کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔18ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اسلاموفوبیا کو نفرت انگیز تقاریر کی شدید ترین شکلوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس ذہنیت کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے جو انسانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کو ہوا دیتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزتہ روز اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان انسانی وقار، مساوات اور آزادی کا پُرزور حامی ہے اور وہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے لیے رکن ممالک اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر مشترکہ انسانیت پر حملہ ہیں۔ یہ معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہیں، انسانی وقار کے منافی ہیں اور پورے پورے گروہوں کو غیر انسانی تصور کرنے کا رجحان پیدا کرتی ہیں۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے کیونکہ آن لائن پلیٹ فارمز نفرت کو پھیلاتے، غلط معلومات کو فروغ دیتے اور خصوصاً کمزور طبقات کے خلاف تشدد کو اکساتے ہیں۔
کانفرنس کا انعقاد مراکش، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے نسل کشی کی روک تھام و تحفظ کی ذمہ داری (UNOSAPG) اور اقوامِ متحدہ کےلائنس آف سویلائزیشنز (UNAOC) نے کیا۔ کانفرنس میں رکن ممالک، اقوامِ متحدہ کے اداروں، بین الاقوامی تنظیموں، سیاسی شخصیات، مذہبی رہنمائوں، مذہبی تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا میں نفرت انگیز تقاریر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ عام گفتگو کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شناخت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، کمزور طبقات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور نفرت پر مبنی جرائم کو معمول کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا مسلمانوں کی جانوں، شناخت اور مذہبی علامات پر حملوں، مساجد کی بے حرمتی اور مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بعض مقامات پر اسلاموفوبیا نے مقامی طاقت کے ڈھانچوں اور مفاداتی گروہوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کر لیا ہے جس سے یہ ایک منافع بخش سرگرمی بن گئی ہے۔ پاکستانی سفیر نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں، اقوامِ متحدہ کی نفرت انگیز تقاریر سے متعلق حکمتِ عملی اور ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد اور حقیقی بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور امتیازی سلوک کو ہوا دینے والی اس غلط ذہنیت کو شکست دینے کا موثر راستہ بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ ہے۔








