پاکستان کا عالمی امن و سلامتی کے لیے خواتین کی قیادت اور کردار بڑھانے پر زور

پاکستان کا عالمی امن و سلامتی کے لیے خواتین کی قیادت اور کردار بڑھانے پر زور

اقوام متحدہ ۔3ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے امن کلچر سے متعلق اعلیٰ سطحی فورم میں امن و سلامتی کے شعبے میں خواتین کے کردار کو مزید وسعت دینے اور ان کی قیادت میں سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’خواتین کی قیادت، امن اور مستقبل میں سرمایہ کاری کی جائے‘‘ ،یہ فورم جنرل اسمبلی کی جانب سے 13 ستمبر 1999 کو کلچر آف پیس کے پروگرام آف ایکشن کی منظوری کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا۔انہوں نے سالانہ فالو اپ قرارداد پیش کرنے پر بنگلہ دیش کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی دستاویز نے واضح کیا کہ امن محض ہتھیاروں کی خاموشی کا نام نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ، معاشرتی تنوع کے احترام اور قانون کی حکمرانی کے فروغ سے حقیقی معنوں میں پروان چڑھتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ خواتین امن کی بڑی قوت ہیں اور امن کے مضبوط کلچر کا قیام سیاسی عمل میں ان کی مکمل شرکت، تعلیم اور انصاف تک بلا رکاوٹ رسائی سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل تنازعات سے متاثرہ معاشرے کو خواتین کی قیادت کی شفا بخش قوت کی ضرورت ہوتی ہے، جب خواتین مذاکرات کی قیادت کرتی ہیں تو امن زیادہ پائیدار جبکہ انہیں سیاسی عمل سے دور رکھنے کی صورت میں امن کمزور اور قلیل المدت ثابت ہوتا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے متعدد قراردادوں کے ذریعے امن و سلامتی کے لیے خواتین کے اہم کردار کو تسلیم کیا اور قیام امن میں خواتین کی قیادت کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کی حمایت کی ۔ سفیر نے کہا کہ پاکستانی خواتین نے سیاسی رہنماؤں، سفارت کاروں، اساتذہ، فوجی اہلکاروں اور امن دستوں کے ارکان کی حیثیت سے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں اور اپنی جرات و عزم کے باعث عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تہذیبی اقدار، آئینی ذمہ داریوں اور حقیقی امن کے لیے خواتین کے مرکزی کردار پر پختہ یقین کی روشنی میں امن و سلامتی کے لیے خواتین کے کردار کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھے گا۔