اقوام متحدہ۔26فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ غزہ میں جنگ بندی تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک نہ پھیل جائے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل نمائندہ عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار برائے مشرق وسطیٰ امن …
پاکستان کا غزہ میں جنگ بندی کو تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک توسیع دینے، امن عمل کی بحالی پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔26فروری (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ غزہ میں جنگ بندی تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک نہ پھیل جائے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل نمائندہ عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار برائے مشرق وسطیٰ امن عمل سگریڈ کاگ کی طرف سے کونسل کے ارکان کو بریفنگ کے بعد کہا کہ جب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے اقدامات استثنیٰ کے ساتھ جاری رہیں گے تب تک مکمل امن قائم نہیں ہو سکتا ۔
انہوں نے کہا کہ 50,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کیا گیا ہے، فوجی کارروائیوں ، آباد کاروں کے تشدد اور زمین پر ناجائز قبضے روز بروز شدت اختیار کر رہے ہیں۔پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ یہ الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ فلسطینیوں کی شناخت کو ان کی اپنی سرزمین سے مٹانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں، یہ اصل میں نسلی تطہیر ہے۔انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں پاکستان کی پرعزم حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، صرف ایک سیاسی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں، اگر ہم انصاف ، قانون کی حکمرانی اور تمام لوگوں کے باوقار زندگی گزارنے کے بنیادی حق کے لیے کھڑے ہیں تو ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔فلسطین کے لیے انصاف کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے ریمارکس میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں بالعموم اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بالخصوص ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کو ترجیح دے تاکہ تشدد اور تباہی کے اس دائمی چکر سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی باوجود صورتحال خطرناک ہے اور تشدد میں وقفے کو امن تصور نہ کیا جائے ۔
انہوں نے جنگ بندی پر مکمل اور فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا جو دشمنی کے مستقل خاتمے، غزہ سے اسرائیلی انخلاء، غیر محدود انسانی رسائی اور غزہ کے لیے ایک جامع تعمیر نو کے منصوبے کو فلسطینیوں کی قیادت ملکیت میں لانے کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ الحرام الشریف/مسجد اقصیٰ کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔یہ بات واضح ہے کہ مسلسل قبضے اور جبر سے استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اسرائیل کا قانونی فرض ہے کہ وہ اس کے کام میں سہولت فراہم کرے۔
انہوں نے ایک قابل اعتماد، ناقابل واپسی سیاسی عمل کے احیا کی ضرورت پر بھی زور دیا جو فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنے۔اقوام متحدہ میں فلسطین کے لیے رکنیت کوئی علامتی اشارہ نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون میں ہونے والی کانفرنس، جس کی مشترکہ صدارت فرانس اور سعودی عرب کریں گے ،جو امن کے لیے ایک اہم موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانا اور مکمل تعاون کرنا چاہیے لیکن ہمیں واضح کرنا چاہیے کہ امن کو قابض کے حکم پر چلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی ہونی چاہیے۔ اس کی بنیاد انصاف، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر ہونی چاہیے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں آئندہ عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے بعد جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس غزہ کی مخدوش صورتحال اور فلسطین کے وسیع تر معاملے سے نمٹنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرے گا۔دریں اثنا، انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ جبری نقل مکانی اور قبضے کے خلاف مضبوطی سے کھڑی رہے۔ امن سفارتی اعلانات سے زیادہ کا تقاضا کرتا ہے اس کے لیے نفاذ، احتساب، استثنا کو مسترد کرنے اور قابض طاقت پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی جواز کی تعمیل کے لیے دباؤ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کا حق اور ایک خودمختار اور ملحقہ فلسطینی ریاست کا حصول محض خواہشات نہیں ہیں یہ خطے میں کسی بھی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اسرائیلی حراست میں قید ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی حالت زار کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ بدسلوکی اور طبی غفلت کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جنگی جرائم ہیں۔انسانی حقوق پر دوہرا معیار صرف ناانصافی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور تنازعات کو برقرار رکھتا ہے۔








