پاکستان کا وسیع اور قدیم ثقافتی ورثہ عالمی ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے، وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کا روم میں تقریب سے خطاب

روم۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کا وسیع اور قدیم ثقافتی ورثہ جس میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی قدیم شہری تہذیبیں شامل ہیں،عالمی ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے۔وہ روم میں انٹرنیشنل سینٹر فار دی اسٹڈی آف پریزرویشن اینڈ ریسٹوریشن آف کلچرل پراپرٹی (آئی سی سی آر اوایم ) کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب …

روم۔12دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کا وسیع اور قدیم ثقافتی ورثہ جس میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی قدیم شہری تہذیبیں شامل ہیں،عالمی ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے۔وہ روم میں انٹرنیشنل سینٹر فار دی اسٹڈی آف پریزرویشن اینڈ ریسٹوریشن آف کلچرل پراپرٹی (آئی سی سی آر اوایم ) کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب “کلچر–کلائمیٹ نیکسس: دی مسنگ لنک” سے کلیدی خطاب کر رہے تھے ۔

جمعہ کو یہاں وزارت قومی ورثہ و ثقافت کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر نے اپنے خطاب میں پاکستان کے وسیع اور قدیم ثقافتی ورثے کا ذکر کیا جن میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی قدیم شہری تہذیبیں، ٹیکسلا اور تختِ بائی کے بدھ مت کے تاریخی مقامات ، لاہور قلعہ اور شالامار باغ جیسے مغلیہ دور کے شاہکار اور ملک کی زندہ مقامی ثقافتیں شامل ہیں اور کہا کہ یہ تمام تاریخی اثاثے آج عالمی ماحولیاتی بحران کی زد میں ہیں۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان سیلابوں سے 750 سے زائد رجسٹرڈ ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام موہنجو دڑو بھی شامل ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے قراقرم ہائی وے کے ساتھ موجود پتھروں پر کھدی قدیم تصاویر اور دیامر بھاشا کے علاقے کے پٹروگلفس خطرے میں ہیں، جب کہ سمندری کٹاؤ اور سطحِ سمندر میں اضافہ، بن بھور اور مکلی کے تاریخی قبرستان کو متاثر کر رہا ہے۔عالمی یکجہتی کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمتِ عملیوں بشمول نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز اور نیشنل اڈاپٹیشن پلانز میں ایک اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر شامل کیا جائے۔ انہوں نے موسمیاتی آفات سے متاثرہ ثقافتی ورثے کے لیے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے تحت ایک مخصوص مالیاتی سیل قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔

مزید برآں، وزیر نے آئی سی سی آر او ایم کی قیادت میں ایک عالمی نالج پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس میں سائنس دان، ماہرینِ ورثہ، مقامی برادریاں اور نوجوان مل کر ثقافت پر مبنی مضبوط اور پائیدار حل تیار کر سکیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے گلوبل اسٹاک ٹیک میں ثقافت پر مبنی اشاریوں کو شامل کرنے کی بھی سفارش کی، تاکہ بڑھتے درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ ثقافتی نقصانات کو بھی ماپا جا سکے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی 10 سے 12 دسمبر 2025 تک جاری آئی سی سی آر او ایم جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

مزید خبریں