پاکستان کا کانگو اور روانڈا کے درمیان امن معاہدہ اور قطر کی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم

اقوام متحدہ ۔14اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے اور قطر کی جانب سے دوحہ اعلامیہ و قیدیوں کے تبادلے کے نظام کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ یہ اقدامات مشرقی کانگو کے بحران زدہ علاقوں میں جنگ بندی کی امید پیدا کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "عظیم افریقی جھیلوں …

اقوام متحدہ ۔14اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان امریکہ کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے اور قطر کی جانب سے دوحہ اعلامیہ و قیدیوں کے تبادلے کے نظام کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ یہ اقدامات مشرقی کانگو کے بحران زدہ علاقوں میں جنگ بندی کی امید پیدا کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں "عظیم افریقی جھیلوں کے خطے” کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت امن کے لیے ایک نازک مگر حقیقی موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جمہوریہ کانگو کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔سفیر عاصم افتخار نے ٹوگو کے صدر فاور گناسنگبے کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے ڈی آر کانگو، روانڈا اور ایم 23 کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی میں کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ وسائل کا غیرقانونی استحصال، طرز حکمرانی کی خامیاں اور سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس جیسے مسائل پر قابو پایا جائے۔پاکستانی مندوب نے خطے کی معدنی دولت کو "مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے” کو تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن "مونسکو” (MONUSCO) کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشن کو مزید کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ جنگ بندی کی نگرانی اور شہریوں کے تحفظ جیسے اپنے اہم فرائض بخوبی انجام دے سکے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور افریقی ممالک کی زیر قیادت امن کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستانی "بلیو ہیلمٹس” نے دو دہائیوں تک خدمات انجام دیں اور رواں سال کے آغاز میں اپنا مشن مکمل کر کے وطن واپس لوٹے۔

مزید خبریں