اسلام آباد ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستانی عدالتوں میں جاسوس کلبھوشن یادیو کیس لڑنے کیلئے اپنے وکلاء کو اجازت دینے کی غرض سے مقامی قوانین میں ترمیم سے متعلق بھارتی مطالبہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان یادیو کیس سے متعلق بھارت کا کوئی بھی غیر معقول مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم …
پاکستان کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق بھارت کا کوئی بھی غیر معقول مطالبہ قبول نہیں کرے گا، بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے خطہ کے امن کو خطرات لاحق ہیں،ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 ستمبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستانی عدالتوں میں جاسوس کلبھوشن یادیو کیس لڑنے کیلئے اپنے وکلاء کو اجازت دینے کی غرض سے مقامی قوانین میں ترمیم سے متعلق بھارتی مطالبہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان یادیو کیس سے متعلق بھارت کا کوئی بھی غیر معقول مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے خطہ کے امن کو خطرات ہیں، بھارت کو یہ جان لینا چاہئے کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ حل ہونے تک ”پاکستان۔بھارت سوال” اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر قائم رہے گا۔ کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حق خود ارادیت دینے سے ہی مسئلہ کشمیر کو یو این سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ بھارت کے پاس پاکستانی عدالتوں کے ساتھ تعاون کے سوال کوئی دوسرا آپشن نہیں، ملکی قوانین کے مطابق صرف مقامی رجسٹرڈ وکلا کو ہی بنچ کے سامنے پیش ہونے کی اجازت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے۔ ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ جاسوس یادیو کو تیسری قونصلر رسائی کی پیشکش سے متعلق بھارتی جواب موصول ہو چکا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو عالمی قوانین کی پاسداری کاپابند بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ چین بھارت سرحد پر حالیہ واقعہ کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہپوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اور توسیع پسندانہ عزائم خطہ کے امن کیلئے خطرناک ہیں۔ ترجمان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن روات کا پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیان کی سخت مذمت کی اور کہا کہ بھارتی سینئر ملٹری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات بی جے پی۔آرایس ایس انتہا پسند نظریات کے عکاس ہیں۔ جنرل بپن کو پرامن ہمسایوں کے خلاف بے جا الزامات کے بجائے اپنے کام پر توجہ دینی چاہئے۔








