پاکستان کو اتحاد و یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، معرکۂ حق میں تاریخی کامیابی ملی، طاہر اشرفی

پاکستان کو اس وقت وحدت، اتحاد اور قومی یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے: حافظ طاہر محمود اشرفی

فیصل آباد۔ 14 جون (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ آج پاکستان کو وحدت، اتحاد اور قومی یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، معرکہ حق میں پاکستان کو ایسی تاریخی فتح نصیب ہوئی ہے جس کی مثال اس صدی کی جنگی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

فیصل آباد میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عظیم کامیابی سے نوازا اور پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو عزت و وقار عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے جو سفارتی کوششیں جاری ہیں، ان میں بھی پاکستان کا کردار نمایاں ہے اور پاکستان کو امت مسلمہ کے درمیان اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مثالی مسلکی یکجہتی موجود ہے اور ماضی میں جب بھی ملک میں شیعہ سنی اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنایا۔ انہوں نے علامہ ساجد علی نقوی سمیت مختلف مذہبی رہنماؤں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے ہمیشہ امن، رواداری اور اتحاد امت کے لیے کردار ادا کیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران پر حملوں کے معاملے پر بھی پاکستان کے شیعہ اور سنی عوام نے متحد ہو کر اپنا موقف پیش کیا اور امت مسلمہ کے اتحاد کا عملی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلفائے راشدین اور اہل بیت اطہارؓ تمام مسلمانوں کے لیے قابل احترام ہیں اور مقدسات کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان اور ضابطہ اخلاق ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے ایک متفقہ قومی دستاویز ہے۔ تمام علماء، ذاکرین، خطباء اور مذہبی شخصیات کو اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا چاہیے، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ پوری امت مسلمہ کے مشترکہ رہنما ہیں اور ہر مسلمان اپنے حسینی ہونے پر فخر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن، اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا تاہم پاکستان مخالف نعروں اور انتشار انگیز بیانات کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے آزاد کشمیر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مختلف احتجاجی گروپوں سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور ایسے عناصر کے آلہ کار نہ بنیں جو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن جدوجہد ہر شہری کا حق ہے لیکن ریاستی اداروں پر حملے، تشدد اور قانون شکنی کسی صورت قابل قبول نہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان، کشمیر اور امت مسلمہ کے دشمن اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، لہٰذا تمام مکاتب فکر کے علماء، مشائخ، سیاسی و سماجی رہنما اور عوام قومی یکجہتی، امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔