پاکستان کو ایشیاء وافریقہ کے بدلتے تجارتی نیٹ ورکس میں ایک اہم مرکز بنایا جا سکتا ہے،افتخار علی ملک

لاہور۔22مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تجارت کے فروغ اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرے تو وہ تنازع زدہ علاقوں کو تجارتی راہداریوں میں تبدیل کر سکتا ہے، جس سے خوشحالی و استحکام کو فروغ ملے گا۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تجارت نہ صرف معاشی ترقی کا ایک …

لاہور۔22مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تجارت کے فروغ اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرے تو وہ تنازع زدہ علاقوں کو تجارتی راہداریوں میں تبدیل کر سکتا ہے، جس سے خوشحالی و استحکام کو فروغ ملے گا۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تجارت نہ صرف معاشی ترقی کا ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کا بھی اہم ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ موجودہ علاقائی تنازعات کے ماحول میں پاکستان کے پاس یہ نادر موقع موجود ہے کہ وہ خود کو ایک مستحکم تجارتی راہداری کے طور پر تسلیم کروائے۔ اگر پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں اور خشکی سے گھرے ہمسایہ ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت اور برآمدات میں سہولت فراہم کرے تو وہ علاقائی تجارت کے لیے ناگزیر بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسٹریٹجک کردار کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی تجارتی اداروں کے ساتھ فعال تعاون ناگزیر ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ملک میں فی کس آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کو جغرافیائی سیاست میں بھی برتری حاصل ہوگی، جس سے علاقائی انحصار کو معاشی اثر و رسوخ میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ انہوںنے کہا کہ آسیان اور افریقی ممالک جیسی ابھرتی ہوئی منڈیاں پاکستان کے لیے تجارت میں تنوع کے نئے مواقع فراہم کرتی ہیں،علاقائی تجارتی بلاکس کے ساتھ اسٹریٹجک روابط پاکستان کو ایشیاء اور افریقہ کے بدلتے ہوئے تجارتی نیٹ ورکس میں ایک اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔