اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):سیکرٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ عائشہ حمیرانے کہا ہے کہ پاکستان کو تباہ کن سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، خشک سالی، غذائی عدم تحفظ اور شدید گرمی کی لہریں جیسے موسمیاتی چیلنجز کاسامنا ہے، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کر کے ان مسائل سے نمٹنے مدد ملے گی، کوپ جیسے بین الاقوامی فورمز پران مسائل کے حل کے لیے جدید، مؤثر، جامع اور پائیدار …
پاکستان کو تباہ کن سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، خشک سالی، غذائی عدم تحفظ اور شدید گرمی کی لہریں جیسے موسمیاتی چیلنجز کاسامنا ہے، عائشہ حمیرہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):سیکرٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ عائشہ حمیرانے کہا ہے کہ پاکستان کو تباہ کن سیلاب، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، خشک سالی، غذائی عدم تحفظ اور شدید گرمی کی لہریں جیسے موسمیاتی چیلنجز کاسامنا ہے، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کر کے ان مسائل سے نمٹنے مدد ملے گی، کوپ جیسے بین الاقوامی فورمز پران مسائل کے حل کے لیے جدید، مؤثر، جامع اور پائیدار اقدامات درکار ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور یونیسیف کے تعاون سے یہاں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں یوتھ فار کلائمیٹ پروگرام کے موضوع پر منعقدہ اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر ملک بھر سے شریک نوجوان ماحولیاتی چمپئنز نے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے اپنے تخلیقی، جدید اور عملی منصوبے پیش کیے اور پالیسی سازی کے عمل میں نوجوانوں کے کردار پر مبنی اعلیٰ سطحی مکالمے میں بھرپور حصہ لیا۔قومی سطح کا یہ پروگرام 15 ستمبر 2025 کو رجسٹریشن کے بعد شروع ہوا، شارٹ لسٹنگ کے بعد منتخب شرکاء نے 25 سے 28 ستمبر تک چار تربیتی نشستوں میں شرکت کی، جن میں انہیں موسمیاتی وکالت، مسئلہ حل کرنے، اور پائیدار و مؤثر حکمتِ عملیوں کی تشکیل کے لیے درکار عملی مہارتیں فراہم کی گئیں۔یکم اکتوبر سے 22 اکتوبر تک ملک کے مختلف حصوں اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں علاقائی اجلاس منعقد ہوئے۔
ان اجلاسوں سے 18 سال سے کم عمر کے 29 بچوں اور 18 سے 24 سال کے 45 نوجوان فائنل میں اپنے علاقوں کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے۔اختتامی مرحلے میں شرکاء نے گروہی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے ماحولیاتی مسائل پر مبنی چیلنجز حل کیے اور ججز و ناظرین کے سوالات کے جوابات دیے۔ نوجوانوں کی کیٹیگری میں چار فاتحین اور چار رنر اپ جبکہ بچوں کی 15 تا 17 سال کی کیٹیگری میں دو فاتحین اور دو رنر اپ کا اعلان کیا گیا۔تقریب میں ایک پالیسی مکالمہ کا انعقاد کیا گیاجس میں صدر ینگ پارلیمنٹرینز فورم سیدہ نوشین افتخار، پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز محمد عثمان اویسی، وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل، اور سیکرٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا نے شرکت کی۔
مباحثے کے اختتام پر ناظم اجلاس نے کلیدی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے اضلاع کی سطح پر پالیسی سازی اور نفاذ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مؤثر موسمیاتی اقدامات ممکن ہو سکیں۔ نوجوانوں کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا کہ وہ کس طرح اس عمل میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں یونیسیف کی چیف آف واش، سنڈی کشنر نے شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یونیسیف میں بچے اور نوجوان ہماری تمام کوششوں کا مرکز ہیں۔
پاکستان میں جہاں 68 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور 47 فیصد بچے ہیں، یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک بے پناہ صلاحیت اور روشن مستقبل کی علامت ہیں۔ نوجوان آج اور کل کے رہنما ہیں۔ ہمیں موسمیاتی مالیات کو بچوں کے لیے حساس بنانا اور نوجوانوں کو قیادت کے مواقع دینا ہوں گے۔انہوں نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفارش کی کہ گرین اسکلز کو فنی تربیت کا حصہ بنایا جائے، نیشنل گرین یوتھ انوویشن فنڈ” قائم کیا جائے، اور نوجوانوں کی قیادت میں موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل تک منصفانہ رسائی یقینی بنائی جائے۔
وزارت نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ جاری اشتراک اور "گرین ٹیک حب” کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستان کی دیگر جامعات کو بھی اس نوجوان قیادت پر مبنی ماحولیاتی اختراعاتی پلیٹ فارم میں شامل ہونے کی دعوت دی۔یوتھ فار کلائمیٹ” کا یہ گرینڈ فائنل پاکستان کی نئی نسل کو پائیدار، جامع اور مؤثر موسمیاتی حل کے فروغ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔








