پاکستان کو توانائی اور اقتصادی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینا ہوگی، افتخار علی ملک

پاکستان کو توانائی اور اقتصادی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینا ہوگی، افتخار علی ملک

لاہور۔14جون (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی نے کہا ہے کہ روس-یوکرین جنگ اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں مشرق وسطی کے بحران نے عالمی اقتصادی نظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے،جہاں انرجی سکیورٹی معاشی کارکردگی پر فوقیت حاصل کر چکی ہے۔ اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ توانائی اب صرف ایک تجارتی جنس نہیں رہی بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار بن چکی ہے جبکہ عالمی تجارت اور سپلائی چینز اقتصادی عوامل کے بجائے جغرافیائی سیاست کے تابع ہوتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپ نے سستی توانائی کے بدلے مہنگی سلامتی کو ترجیح دی ہے جبکہ ایشیائی ممالک متبادل توانائی ذرائع کے حصول کیلئے سرگرم ہیں۔افتخار علی ملک نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹ، صنعت اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،جس سے عالمی سطح پر1970 کی دہائی جیسے "اسٹیگ فلیشن” کے خدشات دوبارہ جنم لے رہے ہیں اور دنیا بتدریج مختلف اقتصادی و توانائی بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق اپنی طویل المدتی توانائی اور اقتصادی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینا ہوگی۔وقتی اقدامات کے بجائے جامع اور مستقل پالیسی فریم ورک، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور اقتصادی ڈھانچے کی مضبوطی ہی ملک کو مستقبل کے عالمی خطرات سے محفوظ بنا سکتی ہے۔