گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کو نئی بین الاقوامی منڈیوں، بالخصوص افریقی ممالک کے ساتھ مضبوط کاروباری و اقتصادی روابط استوار کرنے چاہئیں تاکہ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور وافر قدرتی وسائل کو پائیدار معاشی قوت میں تبدیل کیا جا سکے
پاکستان کو نئی بین الاقوامی منڈیوں، بالخصوص افریقی ممالک کے ساتھ مضبوط کاروباری و اقتصادی روابط استوار کرنے چاہئیں ،فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان کو نئی بین الاقوامی منڈیوں، بالخصوص افریقی ممالک کے ساتھ مضبوط کاروباری و اقتصادی روابط استوار کرنے چاہئیں تاکہ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور وافر قدرتی وسائل کو پائیدار معاشی قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔وہ اسلام آباد میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں بڑی تعداد میں سفیروں، سفارتکاروں، کاروباری شخصیات،حکام،صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور دیگر نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔گورنر نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو نئی سمت دینے سے ترقی اور خوشحالی کے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا معدنیات، تیل و گیس اور پانی کے وسیع وسائل سے مالا مال ہے، ان شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کو نمایاں طور پر تیز کر سکتی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے سرپرست اعلیٰ حامد اصغر خان کی خدمات اور وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشیں پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔اس موقع پروفاقی وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ پاکستان کو روایتی منڈیوں سے آگے بڑھ کر افریقہ کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ روابط مزید مستحکم کرنے چاہئیں۔پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے سرپرست اعلیٰ حامد اصغر خان نے کہا کہ افریقہ ’’مواقع کی سرزمین‘‘ ہے اور ایسے وقت میں پاکستان کو اس براعظم پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جب بعض روایتی مغربی منڈیوں تک رسائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ افریقہ میں پاکستان کا مضبوط اورباوقار تشخص ہے کیونکہ پاکستان نے تاریخی طور پر افریقی اقوام کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کی جسے افریقی عوام آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حامداصغر خان نے کہا کہ افریقہ عالمی معیشت میں تیزی سے اہم قوت بن کر ابھر رہا ہےاورانفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں مواقع فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے ابھرتے ہوئے مواقع سے استفادہ کے لیے حکومت اور نجی شعبے کےدرمیان تعاون بڑھانے اور پاکستانی وافریقی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے قیام پر زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری افریقی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یاسر الیاس نے کہا کہ افریقی منڈیوں کے ساتھ روابط میں اضافے سے پاکستانی برآمد کنندگان، سرمایہ کاروں اورنوجوان کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔یو بی جی کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری نے کہا کہ حامد اصغر خان کا وژن پاکستان افریقہ اکنامک کونسل اور ملکی معیشت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے انہیں ایک ممتاز فارن سروس افسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بطور سرپرست اعلیٰ تقرری کونسل کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے اور حامد اصغر خان کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ظفربختاوری نے کہا کہ کونسل علامہ اقبال کے تصور اورقائداعظم محمد علی جناح کی اختیار کردہ خارجہ پالیسی کی روح کے مطابق آگے بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک پاکستان کے لیے تجارت اورسرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں جبکہ پاکستانی کاروباری برادری پورے افریقی براعظم میں موجود مواقع تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل تجارت، سرمایہ کاری اوراقتصادی سفارتکاری کے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ابھرے گی جو پاکستان کے نجی شعبے کو افریقی منڈیوں سے منسلک کرنے اور دونوں خطوں کے درمیان مضبوط کاروباری روابط کے فروغ میں کردار ادا کرے گی۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ افریقی منڈیاں پاکستان کی کاروباری برادری کے لیے نئی امید اور روشن مواقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعتیں، برآمد کنندگان اورسرمایہ کار افریقی ممالک کے ساتھ طویل المدتی تجارتی شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد ملک نے کہا کہ کونسل کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے شعبوں میں پاکستان اورافریقی ممالک کے درمیان مضبوط اور مؤثر پل قائم کرنا ہے۔ڈین آف دی ڈپلومیٹک کورعطاجان مملوموف نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کو اپنے تاریخی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری شعبوں میں تعاون بڑھانے سے پاکستان اور افریقی اقوام کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے باہمی مفاد کے مواقع پیدا ہوں گے۔







