پاکستان کی آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان منتخب ہونے پر مبارکباد، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 18 جون (اے پی پی) پاکستان نے آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے تاہم کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کے منافی اقدامات کے باعث سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بھارت کے انتخاب نے سوالات کو …

اسلام آباد ۔ 18 جون (اے پی پی) پاکستان نے آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے تاہم کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کے منافی اقدامات کے باعث سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بھارت کے انتخاب نے سوالات کو جنم دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات اقوام متحدہ چارٹر کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہم آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں تاہم بھارت کے انتخاب نے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر تنازعہ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، اعزاز دینے کی بجائے ایسے ملک کا احتساب عدالت ہونا ضروری ہے، بھارت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کا پابند بنایا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیاء اور اس سے باہر امن و سلامتی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے کام جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 9 لاکھ قابض فوجیوں کے ذریعے اعلیٰ کشمیری قیادت سمیت 8 لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام 5 اگست 2019ء کو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے بعد مسلسل 10 ماہ سے زائد عرصہ سے غیر انسانی لاک ڈاؤن اور فوجی محاصرے میں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے غیر معمولی پابندیوں کے ساتھ مقبوضہ وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، بھارت بین الاقوامی مانیٹرنگ ٹیم کو مقبوضہ کشمیر کا دودہ کرنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکارکرتا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی غیر قانونی تبدیلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں اور بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ دنیا کوویڈ 19 وبائی صورتحال سے دوچار ہے، بھارت آر ایس ایس۔بی جے پی کے انتہا پسندانہ ”ہندوتوا” نظریہ کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ بھارتی قیادت نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

مزید خبریں