پاکستان کی آزادی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے ، ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

پاکستان کی آزادی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے ، ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ۔ 14 اگست (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی آزادی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے اور ملک کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان، پولیس اور سول اداروں کے افسران و اہلکاروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، شہدا کے خاندانوں کا غم پوری قوم کا مشترکہ غم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب80ویں جشن آزادی کی مناسبت سے منعقدہ گرینڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں اراکین سینیٹ و قومی اسمبلی، سندھ اور گلگت بلتستان کے وزرا، دیگر صوبوں سے آئے ہوئے معزز مہمانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے آغاز پر قیام پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا، پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ و ساتھ، بلوچستان پولیس اور سول سوسائٹی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی، ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی ۔ تقریب کے آغاز میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن( ر) عبدالخالق اچکزئی کے جوانسال صاحبزادے ثنا اللہ اچکزئی کے ایصال ثواب کیلئے بھی دعا کی گئی ۔میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ہمیں عظیم قربانیوں کے بعد ملا اور اس کی حفاظت، سلامتی اور ترقی کے لیے آج بھی قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سول افسران و اہلکار بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے شہدا کے خاندانوں کو یقین دلایا کہ ان کا غم پوری قوم کا مشترکہ غم ہے۔

وزیراعلیٰ نے ریاست مخالف عناصر کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت بلوچستان نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ تشدد اور بندوق کا راستہ بلوچستان کو ترقی کی جانب نہیں لے جا سکتا۔ اس راستے نے صوبے کو پسماندگی، محرومی اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران صرف گوادر میں 515 ارب روپے خرچ کیے گئے، اس کے باوجود اگر کوئی چیز بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے تو وہ تشدد اور بدامنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بندوق کا راستہ اختیار کرچکے ہیں، ان کے پاس دو راستے ہیں، وہ ریاست پاکستان کو تسلیم کریں اور قومی دھارے میں واپس آئیں، کیونکہ ریاست کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں، تاہم مسافروں، اساتذہ، مزدوروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مکمل امن قائم کرے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ معصوم شہریوں کو قتل کرنا بلوچ روایات نہیں۔ بسوں سے مسافروں کو اتار کر خواتین اور بچوں کے سامنے قتل کرنا نہ بلوچ اقدار ہیں اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے کا عمل۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کو صدیوں پہلے خوارج قرار دیا جاچکا ہے، اسی طرح بلوچ قوم پرستی کے نام پر معصوم انسانوں کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کا بلوچیت اور بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد عناصر غریب بلوچ نوجوانوں کو ورغلا کر پہاڑوں پر لے جاتے ہیں، جبکہ ان کے اپنے بچے بیرون ملک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بچیوں کے لیے آکسفورڈ اور ہارورڈ سمیت عالمی جامعات میں اعلی تعلیم کے دروازے کھولے گئے ہیں اور 10 ہزار سے زائد اسکالرشپس فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، طالبات کے لیے پنک اسکوٹیز اور گرین بس سروس متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ 99 فیصد بند اسکول دوبارہ فعال کیے جاچکے ہیں۔

حکومت میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنا رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے بھرتی کے عمل میں شفافیت لائی جارہی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ حکومت سے کسی کو کوئی شکایت یا گلہ ہو تو اس کی سزا ریاست اور پاکستان کو نہیں دی جانی چاہیے۔ اختلافات کا حل مکالمے، آئین اور جمہوری عمل میں ہے، بندوق میں نہیں۔پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں کسی پنجابی کے قتل کو بلوچوں سے جوڑنا درست نہیں۔ بلوچ مہمان نواز قوم ہے اور دہشت گردی کا کسی قوم یا نسل سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کی کوئی قوم نہیں ہوتی اور دہشت گردی کو کسی قوم کے ساتھ منسوب کرنا دشمن کی سازش ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج جشن آزادی کی گرینڈ تقریب میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔

نسلی اور لسانی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں دشمن کی چال ہیں اور بلوچستان کے عوام ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی شناخت پاکستانی ہے، اس کے بعد ہم بلوچ، پشتون، سندھی یا پنجابی ہیں۔ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے، اس کی مسلح افواج منظم اور باصلاحیت ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستانی قوم متحد ہوکر ملک کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی اور پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔

مزید خبریں