پاکستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اضافے کی بھرپور مخالفت

اقوام متحدہ۔16نومبر (اے پی پی):پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گروپ آف 4ممالک جاپان، بھارت، جرمنی اور برازیل کی جانب سے نئی مستقل نشستوں کے مطالبے کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں استحقاق کے نئے مراکز کی تخلیق کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی …

اقوام متحدہ۔16نومبر (اے پی پی):پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گروپ آف 4ممالک جاپان، بھارت، جرمنی اور برازیل کی جانب سے نئی مستقل نشستوں کے مطالبے کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں استحقاق کے نئے مراکز کی تخلیق کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی اصلاحات پر ہونے والی بحث کے دوران بتایا کہ ایسی کوئی ریاستیں نہیں ہیں جو کسی بھی معروضی معیار کی بنیاد پر اس طرح کے غیر مساوی اور برتر درجہ کا دعویٰ کر سکیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل کی2سالہ غیرمستقل کیٹگری میں اٹلی/پاکستان کی قیادت میں اتحاد برائے اتفاق رائے ( یو ایف سی) گروپ کی توسیع کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک جو سلامتی کونسل میں زیادہ کثرت سے موجودگی کا خواہاں ہے اسے جنرل اسمبلی کےوقتاً فووقتاً انتخابات کے جمہوری عمل کے تابع کرتے ہوئے ایسا کرنا چاہیے۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ اتحاد برائے اتفاق رائے(یو ایف سی) انفرادی رکن ریاستوں کے لیے مستقل رکنیت کی تجاویز کے سخت مخالف ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس وقت 5 رکن ممالک برطانیہ، فرانس، روس اور امریکا پر مشتمل ہے جبکہ 10 غیر مستقل رکن ممالک 2سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ منیر اکرم نے زور دیا کہ دنیا کو آج جن متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیےزیادہ نمائندگی کی حامل ، جمہوری، شفاف، موثر اور جوابدہ سلامتی کونسل ناگزیر ہے۔منیر اکرم نے کہا کہ اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے جس سے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی جا سکتی ہے۔