اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس)جنرل بپن راوت کے پاکستان کے بارے میں غیرذمہ دارانہ اور بے معنی ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔جنرل راوت پاکستان مخالف بیان بازی سے کیریئر بنانے کی بجائے اپنے پیشہ وارانہ امور پر توجہ دیں۔جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے پاکستان مخالف ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ …
پاکستان کی بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے پاکستان کے بارے میں غیرذمہ دارانہ اور بے معنی ریمارکس کی مذمت
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس)جنرل بپن راوت کے پاکستان کے بارے میں غیرذمہ دارانہ اور بے معنی ریمارکس کی شدید مذمت کی ہے۔جنرل راوت پاکستان مخالف بیان بازی سے کیریئر بنانے کی بجائے اپنے پیشہ وارانہ امور پر توجہ دیں۔جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے پاکستان مخالف ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی پاکستان مخالف ہرزہ سرائی پاکستان کی حقائق کے بارے میں ان کی مکمل ناقص سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی طرز عمل کی عکاسی ہے۔ ان کے پاکستان مخالف ریمارکس آر ایس ایس-بی جے پی کے توسیع پسندانہ اور اکھنڈ بھارت نظریات پر مبنی ذہنیت کے عکاس ہیں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اس ذہنیت نے ہندوستان کے ریاستی اداروں بشمول مسلح افواج کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی پاکستان مخالف ہرزہ سرائی بھارت کی داخلی اور خارجی غلط پالیسیوں اور اقدامات سے توجہ ہٹا نہیں سکتی۔ ترجمان نے کہا کہ ’ہندوتوا‘ کی پالیسیوں کے نتیجے میں بھارت میں مذہبی مقامات کی باقاعدگی سے بے حرمتی کی جاتی ہے ، ریاست کی ملی بھگت کے ساتھ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر ظلم و ستم روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔ترجمان نے جنرل راوت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان مخالف بیان بازی سے کیریئر بنانے کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ امور پر توجہ دیں۔








