قومی اسمبلی میں ارکان نے ایران،امریکا اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اس صورتحال میں کلیدی ثالثی کردار ادا کیا ہے
پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے تنائو میں کمی ،چیزوں کے بہتر ہونے کا امکان ہے ،اراکین قومی اسمبلی

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):قومی اسمبلی میں ارکان نے ایران،امریکا اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اس صورتحال میں کلیدی ثالثی کردار ادا کیا ہے،ہمیں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے طویل المدتی پالیسیاں بنانا ہوں گی،ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہر شے کو متاثر کرتا ہے، عوام کو براہ راست ریلیف دینا ہوگا،حکومت اور عسکری و سیاسی قیادت کا موجودہ صورتحال میں کردار قابل تحسین ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے پیر سے جاری بحث کو جاری رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ وقتی ریلیف کی بجائے ہمیں مستقل حل کی طرف جانا ہوگا۔پاکستان نے موجودہ صورتحال میں سب سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔پھر کچھ وقت کے کئے ریلیف دیا،پھر ایک دم مزید اضافہ کردیا۔اب ہم بھی یہ اضافہ برداشت نہیں کرپارہے اور ہم بھی گاڑیاں نہیں نکال رہے۔حکومت آئل کمپنیوں کے منافع میں کمی کرے۔عوام کو براہ راست ریلیف دیا جائے۔بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف دیا جائے۔ایم کیو ایم کے رکن محمد جواد حنیف خان نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے خطے کی صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔ایسے میں قومی سلامتی،سفارتی اور معاشی اقدامات پر بریفنگ دی جائے۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایران جنگ میں ثالثی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں اس وقت واحد ملک ہے جس پر سب اعتبار کررہے ہیں،پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے تنائو میں کمی اور چیزوں کے بہتر ہونے کا امکان ہے۔اس پر سیاسی وعسکری قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ وقت گزر گیا جب ایک دوسرے کو غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے،ہمیں کچھ نکات پر متفق ہونا چاہیے۔ایک آدمی پوری دنیا کو جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے،امریکا ہم پر اعتبار کرتا ہے،اس کا فائدہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔یہاں پر زیادہ سے زیادہ ممبران کو بولنے کا موقع دیا جائے۔انجینئر حمید حسین نے کہا کہ تیراہ آپریشن کی وجہ سے متاثرین کو شدید مشکلات ہیں،یہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کو اپنے علاقوں میں واپس لایا جائے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے ہدایت کی کہ وہ اس کی تفصیلات فراہم کریں آئی جی خیبر پختونخوا سے بات کرکے تفصیلات لیتے ہیں۔مسلم لیگ ن کی رکن سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ دنیا اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے،ایسے حالات پہلے نہیں دیکھے۔کابینہ کے ارکان کی جانب سے اس صورت حال میں محنت سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو قابل تحسین ہیں۔ہمارے ہمسایہ ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کی وجہ سے عوام دست وگریباں ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ نہ کیا جائے بلکہ اس کو ریگولر چلایا جائے تاکہ ارکان کو بار بار سفر نہ کرنا پڑے۔سحر کامران نے کہا کہ حکومت کو اپنی پالیسی کی طرف دیکھنا چاہیے۔سبسڈی سے پسماندہ طبقات کو کم فائدہ ہوتا ہے۔حکومت طویل المدتی پالیسیوں کی طرف جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام پر براہ راست بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے، متوسط طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے،حقیقی اصلاحات آئیں گی تو اس طبقہ کو ریلیف ملے گا،ڈی اے پی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، سمارٹ ایجوکیشن سسٹم متعارف کرایا جائے۔








