پاکستان کی 2009 آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فتح کو 17 سال مکمل ہو گئے

پاکستان کی2009 آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فتح کو آج17 سال مکمل ہو گئے۔21 جون2009 کو لارڈز میں کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دیکر پہلی مرتبہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا

لاہور۔21جون (اے پی پی):پاکستان کی 2009 آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فتح کو آج17 سال مکمل ہو گئے۔21 جون2009 کو لارڈز میں کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دیکر پہلی مرتبہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔اس تاریخی کامیابی میں کپتان یونس خان کی قیادت،بائولرز کی عمدہ کارکردگی اور شاہد آفریدی کی آل راونڈ صلاحیتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ٹورنامنٹ میں عمر گل پاکستان کے سب سے کامیاب بالر رہے،جنہوں نے سات میچوں میں13 وکٹیں حاصل کیں۔شاہد آفریدی نے بھی شاندار آل رائونڈ کھیل پیش کرتے ہوئے176 رنز بنانے کے ساتھ11 وکٹیں حاصل کیں جبکہ انہوں نے دو نصف سنچریاں بھی اسکور کیں۔عمر گل نے2009 کی فتح کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹیم نے فیصلہ کیا تھا کہ2007 کے فائنل میں ہونے والی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا۔ان کے مطابق مسلسل فتوحات کے بعد ٹیم کا اعتماد بڑھتا گیا اور یہ یقین پیدا ہو گیا تھا کہ پاکستان ٹائٹل جیت سکتا ہے۔انہوں نے نیوزی لینڈ کیخلاف اپنے پانچ وکٹوں والے میچ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس مقابلے میں شاہد آفریدی کا شاندار کیچ ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ عمر گل نے بتایا کہ فائنل جیتنے کے بعد پاکستانی شائقین نے گرائونڈ کے باہر زبردست جشن منایا اور ان کے جوش و جذبے کی وجہ سے ٹیم کو اسٹیڈیم سے نکلنے میں تقریبا دو گھنٹے لگے۔سابق کپتان مصباح الحق نے کہا کہ2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنا اس لیے بھی خاص تھا کیونکہ2007 کے فائنل میں شکست کا دکھ ابھی باقی تھا۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف کامیابی کے بعد ٹیم میں جیت کا یقین پیدا ہو گیا تھا جبکہ شاہد آفریدی کی فارم اور بالرز کی عمدہ کارکردگی فتح کی بڑی وجوہات تھیں۔قومی ٹیم کے اسپنر ساجد خان نے کہا کہ2009 میں وہ پشاور میں انڈر13 کرکٹ کھیل رہے تھے۔ان کے گھر میں ٹی وی موجود نہیں تھا،اس لیے انہیں اگلی صبح اپنے بھائی کے موبائل فون سے پاکستان کی فتح کا علم ہوا۔ساجد خان کے مطابق پاکستان کو بڑا آئی سی سی ایونٹ جیتتے دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی تھی۔قومی ٹیم کے بیٹر امام الحق نے کہا کہ2009 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی بہت سی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امتحانات کے باوجود وہ پاکستان کے تمام میچز فالو کرتے تھے اور سیمی فائنل و فائنل کے مقابلے ناقابلِ فراموش تھے۔امام الحق کے مطابق شاہد آفریدی کی میچ وننگ اننگز،کامران اکمل کی جارحانہ بیٹنگ اور عمر گل کی یارکرز آج بھی یادگار ہیں جبکہ یونس خان کی کپتانی،محمد عامر کے اسپیلز اور سعید اجمل کی بالنگ بھی شاندار رہی۔انہوں نے بتایا کہ فائنل میچ انہوں نے اپنے ریاضی کے استاد کے ساتھ دیکھا تھا،تاہم پڑھائی اور کرکٹ کو ساتھ لے کر چلنے کی وجہ سے وہ زیادہ جشن نہیں منا سکے تھے۔