پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں، مقامی وسائل پر خود انحصاری کی جانب سفر جاری

اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):حکومتِ پاکستان اورایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب نمایاں پیشرفت جاری ہے۔ پالیسی اصلاحات اور مقامی وسائل کے فروغ نے ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دی ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان نے بجلی کی پیداوار کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں جہاں درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو …

اسلام آباد۔19مارچ (اے پی پی):حکومتِ پاکستان اورایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب نمایاں پیشرفت جاری ہے۔ پالیسی اصلاحات اور مقامی وسائل کے فروغ نے ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دی ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان نے بجلی کی پیداوار کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں جہاں درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو کر مالی سال 2020-21 کے 34 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 2024-25 میں تقریباً 15 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جوہری توانائی کے شعبے میں بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے، خصوصاً K-2 Reactor کی فعالی کے بعد ملک میں جوہری بجلی کی پیداوار 10.9 ٹیرا واٹ آور سے بڑھ کر 23 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ چکی ہے جو توانائی کے محفوظ اور پائیدار ذرائع کی جانب ایک اہم قدم ہے۔قابلِ تجدید توانائی، بالخصوص شمسی توانائی، تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ ملک میں سالانہ 14 سے 20 گیگاواٹ تک قابلِ تجدید توانائی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ 18 لاکھ سے زائد کسان شمسی توانائی کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

سولر ٹیوب ویلز کے استعمال سے گرڈ سے بجلی کی کھپت میں 45 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اسی طرح درآمدی ایندھن پر مبنی بجلی کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی آئی ہے جہاں ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی میں تقریباً 49 فیصد اور فرنس آئل سے پیداوار میں تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کر رہی ہے بلکہ ماحولیاتی بہتری میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ماہرِ معاشیات و توانائی محمد عارف کے مطابق پاکستان میں توانائی کا حقیقی انقلاب آ چکا ہے کیونکہ ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت اب ضروریات سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق سولر، تھر کول اور نیوکلیئر توانائی جیسے مقامی ذرائع کو مزید مؤثر اور کم لاگت انداز میں استعمال کر کے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور مقامی وسائل کے فروغ نے نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دی ہے بلکہ ملکی معیشت کو استحکام کی راہ پر بھی گامزن کیا ۔