قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کی چیئرپرسن و رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثہ کا تحفظ امن، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی پاکستان کے …
پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثہ کا تحفظ امن، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اہم ہے، سیدہ نوشین افتخار

مزید خبریں
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کی چیئرپرسن و رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثہ کا تحفظ امن، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی بین المذاہب امن کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور رواداری کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں سیدہ نوشین افتخار کو انٹر فیتھ ہارمنی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت سیدہ نوشین افتخار نے کونسل کو بین المذاہب ہم آہنگی، مکالمے، باہمی مفاہمت اور احترام کے لیے پانچ دہائیوں پر مشتمل قابل تحسین خدمات پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مذہبی و ثقافتی تنوع اس کی قومی شناخت کا لازمی حصہ ہے اور مسیحی، ہندو، سکھ، بدھ، کالاش اور دیگر برادریوں کا ورثہ پاکستان کی مشترکہ تاریخ کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تاریخی مقامات اور عبادت گاہوں کا تحفظ محض ماضی کی حفاظت نہیں بلکہ وقار، بقائے باہمی اور تاریخی انصاف کے عزم کا اظہار ہے۔
رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو کانفرنسوں تک محدود رکھنے کی بجائے تعلیمی اداروں، ثقافتی پلیٹ فارمز، عوامی مکالمے اور روزمرہ زندگی میں فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے پارلیمان کے ذریعے قانون سازی، نگرانی اور پالیسی مکالمے کے عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے مذہبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ میں موثر کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا۔چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت سیدہ نوشین افتخار نے نوجوان نسل کو پاکستان کے متنوع ورثہ سے روشناس کرانے اور تعصب و نفرت کے بیانیوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس میں وفاقی وزراء، سفارت کاروں، علماء کرام، سول سوسائٹی، صحافیوں اور مختلف مذاہب کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔







