پاکستان کے معاشی مستقبل اور پائیدار ترقی کے لئے متبادل تنازعاتی حل اور مؤثر ڈائیلاگ ناگزیر ہے ، جسٹس شاہد وحید

اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی مستقبل اور پائیدار ترقی کے لئے متبادل تنازعاتی حل اور مؤثر ڈائیلاگ ناگزیر ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لئے ضروری ہے کہ انہیں یہ واضح پیغام ملے کہ پاکستان کی عدلیہ قومی اہمیت کے معاملات میں معیشت کے استحکام اور ترقی کے ساتھ کھڑی ہے، سپریم کورٹ نے کمرشل تنازعات کے …

اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی مستقبل اور پائیدار ترقی کے لئے متبادل تنازعاتی حل اور مؤثر ڈائیلاگ ناگزیر ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لئے ضروری ہے کہ انہیں یہ واضح پیغام ملے کہ پاکستان کی عدلیہ قومی اہمیت کے معاملات میں معیشت کے استحکام اور ترقی کے ساتھ کھڑی ہے، سپریم کورٹ نے کمرشل تنازعات کے حل کے لئے ایک مؤثر طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے جس سے سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد ملے گی۔

ان خیالات کا اظہار جسٹس شاہد وحید نے جمعہ کو متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر ) کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ پر منعقدہ عالمی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد وفاقی وزارتِ قانون و انصاف کے زیر اہتمام کیا گیا جس میں ملکی و غیر ملکی قانونی ماہرین، وکلا، سرکاری افسران اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اختلافات کے خاتمے اور تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے قرآنِ پاک میں بھی واضح اصول موجود ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے معاشرتی اور معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے اس نوعیت کے مکالمے اور قانونی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔کانفرنس کے اختتامی سیشن سے وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے بطور مہمانِ اعزاز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ قانون و انصاف اور او آئی سی اس اہم ڈائیلاگ کے انعقاد پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں کیسز عدالتوں میں التواء کا شکار رہتے ہیں جس کے باعث حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثر پڑتا ہے، اگر کوئی مقدمہ عدالتوں میں پھنس جائے تو تمام منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔

وزیرِ مملکت نے بتایا کہ حکومت نے ایف بی آر میں حال ہی میں اہم ترامیم کی ہیں تاکہ تنازعات کے جلد اور منصفانہ حل کو ممکن بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق اب بننے والی کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کریں گے، اس مقصد کے لئے تین ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کئے جائیں گے جن میں سے ایک کو حتمی طور پر منتخب کیا جائے گا۔ تین رکنی کمیٹی میں ایک رکن ٹیکس دہندگان جبکہ ایک ٹیکس کمشنر کی جانب سے نامزد کیا جائے گا۔

بلال اظہر کیانی نے مزید کہا کہ اگر ٹیکس دہندہ کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن ہوگا تو وہ دیگر تمام فورمز پر دائر درخواستیں واپس لے گا۔ اسی طرح ایف بی آر بھی مختلف عدالتوں یا فورمز پر دائر کیسز واپس لے گا جس سے غیر ضروری مقدمہ بازی میں کمی آئے گی۔قبل ازیں کانفرنس کے آغاز پر وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی اور متبادل تنازعاتی حل کا نظام ایک مؤثر، قابلِ اعتماد اور تیز رفتار طریقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قانون و انصاف صوبوں میں بھی اے ڈی آر نظام متعارف کرانے جا رہی ہے جبکہ ثالثی سے متعلق نیا قانون لانے کے لئے کام آخری مراحل میں ہے۔ سیکرٹری قانون نے کہا کہ کانفرنس میں وزارتِ پٹرولیم، سی سی پی، پیپرا سمیت دیگر اداروں کے افسران اور قانونی ماہرین شریک ہیں۔