وفاقی وزیرِ پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاکستان کے پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
پاکستان کے پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ہے،ترجمان پاور ڈویژن

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاکستان کے پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق وزارت توانائی نے پاکستان کے پبلک سیکٹر کی تاریخ میں ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا گیا ہے جو آنے والے برسوں میں قومی سطح پر حکمرانی کی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس فریم ورک کو عملی شکل دینے کے لیے کونسل کو ایک اعلیٰ سطحی، بین الادارہ جاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے جس میں پاور سیکٹر کے تمام اہم اداروں کی نمائندگی شامل ہے۔ کونسل پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی مشاورت اور شمولیت سے تشکیل دی گئی ہے، جس سے قومی ڈیجیٹل گورننس معیارات سے مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی گئی ہے۔ فریم ورک کو عالمی معیار DAMA-DMBOK کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جو پیشہ ورانہ ڈیٹا گورننس کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کا قیام پاکستان کے کسی بھی سرکاری شعبے میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے، پہلی بار کوئی سرکاری شعبہ اس اعتراف کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ ڈیٹا ایک قومی اثاثہ ہے اور اس کا انتظام اسی ذمہ داری اور احتساب کے ساتھ ہونا چاہیے جو کسی بھی اہم قومی وسیلے کا حق ہے۔ یہ کونسل محض ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک مستقل قومی اثاثہ ہے جو وقت کے ساتھ اہمیت میں بڑھتا جائے گا اور آنے والی نسلوں کے فائدے کے لیے ہر اہم فیصلے کی بنیاد بنتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ڈیٹا کو ایک اہم قومی اثاثہ تصور کرتی ہے، تاہم برسوں سے پاور سیکٹر بکھرے ہوئے، متضاد اور غیر قابلِ اعتماد اعداد و شمار کے سہارے چلتا رہا۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں، تقسیم کار ادارے، ٹرانسمیشن کمپنیاں اور ریگولیٹری ادارے سب کے اپنے الگ نظام اور الگ اعداد و شمار تھے۔ کمزور کوالٹی کنٹرول، معیاری تعریفوں کا فقدان، میٹا ڈیٹا کی غیر موجودگی، ناکافی ڈیٹا سکیورٹی اور مرکزی ڈیٹا ریپوزیٹری کی عدم موجودگی نے ڈیٹا سائلوز، معلومات کی تکرار اور متضاد رپورٹوں کی صورتحال پیدا کر دی تھی، جس سے منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی دونوں متاثر ہوتی رہیں۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک جامع ڈیٹا گورننس فریم ورک متعارف کرایا ہے جو ڈیٹا کی تخلیق، تصدیق، محفوظ ذخیرہ، معیار کی یقین دہانی اور باضابطہ اشتراک تک پورے دورانیے میں واضح پالیسیوں اور معیارات کا تعین کرتا ہے۔ کونسل کی نگرانی میں ایک مرکزی ڈیٹا ریپوزیٹری قائم کی جائے گی جو پورے شعبے کا ڈیٹا ایک واحد، مستند اور قابلِ تصدیق پلیٹ فارم پر یکجا کرے گی۔ اس سے پہلی بار ایک ایسا نظام وجود میں آئے گا جہاں ہر مجاز ادارہ، منصوبہ ساز، ریگولیٹر اور سرمایہ کار ایک ہی قابلِ اعتماد ڈیٹا سے فیصلے کرے گا۔ ڈیٹا تک کنٹرول شدہ اور محفوظ رسائی ڈیٹا کی رازداری، صحت اور گورننس کے معیارات کی پاسداری کو یقینی بنائے گی۔ اس سے بجلی کی طلب کا درست تخمینہ، انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کا بہتر ہدف، خطرات کی بروقت شناخت اور وسائل کا دانشمندانہ استعمال ممکن ہوگا۔ اداروں کے درمیان باہمی انضمام اور مؤثر ڈیٹا تبادلے سے آئی ٹی سرمایہ کاری میں غیر ضروری تکرار ختم ہوگی اور براہِ راست مالی بچت سے عوام کو بہتر خدمات فراہم ہوں گی۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے ڈیٹا کی ساکھ ہر سرمایہ کاری کے فیصلے کی بنیاد ہوتی ہے۔
اس نظام کی غیر موجودگی تاریخی طور پر پاکستان کے توانائی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں ایک خاموش لیکن اہم رکاوٹ رہی ہے۔ یہ کونسل وہ رکاوٹ دور کر دیتی ہے۔ اب بین الاقوامی سرمایہ کار پہلی بار اس اعتماد کے ساتھ ڈیٹا دیکھ سکیں گے کہ یہ تصدیق شدہ، موازنہ کے قابل اور ایک واحد سرکاری ذریعے سے آیا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری کا خطرہ کم ہوگا، فیصلوں کا عمل تیز ہوگا اور پاکستان توانائی شعبے میں طویل مدتی غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک شفاف اور قابلِ اعتماد مقام کے طور پر ابھرے گا۔پاور سیکٹر پاکستان کا پہلا سرکاری شعبہ ہے جس نے باقاعدہ ڈیٹا گورننس کا ادارہ قائم کیا ہے اور اس قدم کی اہمیت توانائی سے بہت آگے جاتی ہے۔ یہاں قائم ہونے والا نمونہ — ایک بین الادارہ جاتی کونسل، ایک مرکزی ڈیٹا ریپوزیٹری اور ایک لازمی گورننس فریم ورک — پانی، صحت، نقل و حمل اور مالیات سمیت تمام سرکاری شعبوں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اس تاریخی قدم پر فخر ہے اور وہ اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ یہ کونسل شفاف، ذمہ دار اور مؤثر حکمرانی کی ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد بنے۔








