پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ، ایئر مارشل (ر) جاوید احمد

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے صدر ایئر مارشل (ر)جاوید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کو فوری طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے سیاحت، کارگو، ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ، روزگار اور قومی سلامتی کے شعبوں میں اپنی مکمل صلاحیت بروئے کار لانے کا موقع مل سکے۔بدھ کو مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری …

اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے صدر ایئر مارشل (ر)جاوید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کو فوری طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے سیاحت، کارگو، ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ، روزگار اور قومی سلامتی کے شعبوں میں اپنی مکمل صلاحیت بروئے کار لانے کا موقع مل سکے۔بدھ کو مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ایڈوائزر ڈاکٹر عثمان ڈبلیو چوہان ، چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو، کمیشن کے ممبرز اور دیگر افسران بھی سیشن میں موجود تھے۔

سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز پاکستان کا صفِ اول کا تحقیقی ادارہ ہے جو ایروسپیس، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سکیورٹی اور قومی پالیسی پر سٹریٹجک تحقیق کرتا ہے۔اس موقع پر مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسابقتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ مختلف شعبوں کا ریگولیٹری فریم ورک پرانا ہو چکا ہے اور اسے جدید کاروباری تقاضوں، مسائل اور چیلنجز کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کا ’’سینٹر آف ایکسی لینس‘‘ کا مختلف سیکٹروں کے تفصیلی تجزیے، ریگولیٹری خلا ءکی نشاندہی، مارکیٹ کی کمزوریوں اور رکاوٹوں کا جائزہ لینے پر کام کر رہا ہے، یہ سینٹر اب تک ایل این جی، بجلی، انشورنس، فرٹیلائزر، روڈ انفراسٹرکچر اور سونے سمیت 15سے زائد شعبوں پر جامع مطالعہ مکمل کرچکا ہے۔

ایئر مارشل (ر)جاوید احمد نے عالمی اور مقامی ہوا بازی کی صنعت کے خدوخال پر تفصیلی لیکچر دیا۔ انہوں نے پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے چیلنجز پر روشنی ڈالی جن میں آپریشنل اخراجات، کمزور گورننس، سکیورٹی کے مسائل، شعبہ جاتی نااہلیاں، نجی شعبے کی محدود شمولیت اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس مضبوط ایرو ناٹیکل صلاحیت موجود ہے اور پاکستان جلد مسافر طیارہ بنانے کے قابل ہو جائے گا کیونکہ ملک کے پاس جدید جنگی طیاروں کی تیاری کا مضبوط انفراسٹرکچر موجود ہے۔

انہوں نے نیشنل ایروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کے بارے میں کہا کہ این اے ایس ٹی پی ایک جدید نیٹ ورک ہے جس میں اے آئی، ایویانکس، سائبر، روبوٹکس، کمپوزٹس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز کے جدید لیبارٹریز شامل ہیں، اس کا مقصد پاکستان کا پہلا مربوط ایروسپیس ایکو سسٹم قائم کرنا اور ملک کو علاقائی سطح پر ہوا بازی میں جدت کا مرکز بنانا ہے۔ڈاکٹر عثمان ڈبلیو چوہان نے اہم معاشی اعدادوشمار پیش کئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت 5.6 ارب ڈالر جی ڈی پی میں حصہ ڈالتی ہے جو کہ 1.7 فیصد ہے۔

اس شعبے میں 6 لاکھ 84 ہزار بروزگار ہیں۔ سال 2023 میں 2 کروڑ 20 لاکھ مسافروں نے ہوائی سفر کیا، اور یہ تعداد قومی ہوا بازی پالیسی 2023 کے تحت مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فلائٹ مارکیٹ کی آمدن 2025 میں 6.04 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک 8.17 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے جبکہ صارفین کی تعداد 4 کروڑ 85 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔

 

مزید خبریں