وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہےکہ قومی خودمختاری کا انحصار اب پاکستان کی ڈیجیٹل سپیس کے تحفظ پر بھی ہے
پاکستان کے 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا ڈیجیٹل خودمختاری، مضبوط سائبر سکیورٹی پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہےکہ قومی خودمختاری کا انحصار اب پاکستان کی ڈیجیٹل سپیس کے تحفظ پر بھی ہے۔پاکستان کے 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر جمعہ کو پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2026 میں آزادی صرف جسمانی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ڈیجیٹل خودمختاری بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ،قومی سلامتی، گورننس، معیشت، صحت، تعلیم، زراعت اور صنعت میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان کا 80واں یوم آزادی منا رہے ہیں، یہ ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے اور ہم اسے بڑے جوش و جذبے سے منا رہے ہیں بلاشبہ یہ زندہ قوم کا دن ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یوم آزادی کی تقریبات میں قومی خود شناسی کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف تو ہم ان سب چیزوں کا جشن منا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف، ہمیں خود شناسی کرنی ہے۔انہوں نے کہاکہ آزادی سے اب تک ہم نے کیا کیا، ہم نے کس طرح اپنا حصہ ڈالا اور آگے کیسے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن ہے، انشاء اللہ ہم خود شناسی کر یں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں آزادی کا مطلب جسمانی حدود اور ایک ایسا علاقہ بنانا تھا جسے لوگ پاکستان کہہ سکیں،لیکن آج 2026 میں، اس آزادی کا مطلب ایک طرف ہماری طبعی حدود اور ہماری قومی ریاست، لیکن دوسری طرف تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل خودمختاری بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ٹیکنالوجی کی ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے، صحت، تعلیم، مالیات، زراعت اور صنعت میں ڈیجیٹل ٹولز اہم ہو تے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی بھی ٹیکنالوجی کے منظر نامے کا حصہ بن چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال جب ہم نے اپنے دشمن کے خلاف جنگ لڑی تو جہاں ہمارے سرحدی محافظوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی قیادت میں جس طرح روایتی جنگ کے ذریعہ ہماری فزیکل سرحدوں کی حفاظت کی، اسی طرح ٹیکنالوجی نے بھی اپنا جنگی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین، اداروں اور مسلح افواج کے سائبر ونگز نے ڈیجیٹل ڈومین میں پاکستان کی بھر پور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیبر سکیورٹی کے ماہر ہمارےنوجوانوں، اداروں اور ہماری فوج کے سائبر ونگ، ان سب نے مل کر سائبر سکیورٹی کا اس طرح مظاہرہ کیا کہ ہم نے اپنے سب سے بڑے دشمن کو صرف دو دن میں بری طرح شکست دی، اور وہ جنگ بندی کی درخواست کرنے لگے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سائبر سکیورٹی رینکنگ میں پاکستان کی بہتر پوزیشن مسلسل کوششوں اور مضبوط قیادت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی سائبر سکیورٹی رینکنگ میں ٹاپ درجے میں چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ درجہ بندی اتفاق سے نہیں ہوئی۔شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے ساتھ سائبر سکیورٹی مزید اہم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان کے سائبر خطرات میں 30 سے 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نےخبردار کیا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی سائبر سکیورٹی کے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے اور ا س کے جدید حل کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے، اس کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں، لیکن اس کے خطرات اور چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ نے ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل سوسائٹی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری اداروں، تعلیم اور مالیاتی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تقریباً 40 محکمے ایک سال سے بھی کم عرصے میں پیپر لیس ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دفتر بھی پیپر لیس آپریشنز پر منتقل ہو گیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹاسک مینجمنٹ اور فالو اپ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔فاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی پر عمل درآمد کر رہی ہے جبکہ سائبر سکیورٹی ایکٹ پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 رکنی سی ای آر ٹی کونسل سائبر سکیورٹی پر کام کر رہی ہے، جس میں آئی ٹی، دفاع، داخلہ اور خارجہ امور، ٹیلی کام کمپنیوں اور سیکٹرل سی ای آر ٹی کی وزارتوں کے نمائندے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک کی وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دی ہے۔یہ فریم ورک پبلک سیکٹر کی تنظیموں کے لیے کم از کم سکیورٹی کا معیار فراہم کرے گا، جو ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر، لائسنس اور دیگر معلوماتی حفاظتی ضروریات کا احاطہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ فریم ورک پرائیویٹ سیکٹر کی رہنمائی بھی کرے گا، جبکہ سخت اقدامات کا اطلاق اہم ڈیٹا اور ذاتی طور پر قابل شناخت معلومات پر ہوگا۔ انہوں نے ڈیٹا انفراسٹرکچر کو ایک اسٹریٹجک قومی اثاثہ قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی ڈیٹا گورننس پالیسی ڈیٹا کو عوامی بھلائی اور ایک سٹریٹجک اثاثہ کے طور پر پیش کرے گی جس کی حفاظت کی جانی چاہیے جبکہ جدت تک عوام کو رسائی کی اجازت دی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ سائبر سکیورٹی کو بعد میں شامل کرنے کے بجائے ڈیجیٹل سسٹمز کے بنیادی ڈھانچے میں شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سائبرسکیوریٹی کو ڈیجیٹل سسٹمز اور ان کی مدد کرنے والے فزیکل انفراسٹرکچر دونوں کا احاطہ کرنا چاہیے۔اس میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، آپٹیکل فائبر، ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز، چپس، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ چاہے یہ ہارڈویئر سکیورٹی ہو یا یہ ہمارے ڈیٹا اور سافٹ ویئر کی سکیورٹی ہو، ہمیں سائبر سکیورٹی کو یکساں طور پر یقینی بنانا اور برقرار رکھنا ہے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے نوجوانوں اور سائبر سکیورٹی میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی اثاثہ ہمارے نوجوان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں نوجوانوں کی ہمیں حوصلہ افزائی کرنی ہے اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا ہے۔ لہذا اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئےہمیں اسے بھی بڑا ایک پروگرام بنانا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان کے تحفظ اور اسے جسمانی اور ڈیجیٹل طور پر خودمختار بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا پاکستان کو بنانے کے قابل ہو جائیں گے، جو نہ صرف فزیکلی طور پر بلکہ ڈیجیٹل طور پر بھی خودمختار ہو، جہاں ہم اپنا انفراسٹرکچر بنائیں، ہم صرف صارفین کے بجائے ٹیکنالوجی کے تخلیق کار ہوں۔








