لاہور۔22فروری (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈرشن (پی ایچ ایف)نے قومی کھیل کی بحالی اور بہتری کے لئے نئی ایڈہاک نظم و نسق اور انتظامی کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں ہاکی کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق …
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی کھیل کی بحالی اور بہتری کے لیے نئی ایڈہاک انتظامی کمیٹی کا اعلان کر دیا
لاہور۔22فروری (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈرشن (پی ایچ ایف)نے قومی کھیل کی بحالی اور بہتری کے لئے نئی ایڈہاک نظم و نسق اور انتظامی کمیٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں ہاکی کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق تکنیکی امور کو موثر بنانے کے لیے سابق اولمپین اور مایہ ناز کھلاڑی حسن سردار اور اصلاح الدین کو پیشہ ورانہ ترقیاتی کمیٹی کا مشترکہ سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
ان کی ذمہ داریوں میں قومی ٹیم کا انتخاب، خصوصی تربیتی نظام کی نگرانی اور کوچز و کھلاڑیوں کے لیے سخت اور شفاف معیار کا تعین شامل ہوگا۔طویل المدتی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے پیشہ ورانہ مشاورتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس کی مشترکہ سربراہی بھی انہی دونوں سابق اولمپینز کے سپرد کی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے دیگر ارکان کا تقرر باہمی مشاورت سے کیا جائے گا تاکہ میرٹ اور تجربے کو اولین ترجیح دی جا سکے۔فیڈریشن نے انتظامی امور کو مزید موثر بنانے کے لیے مالیات، انسانی وسائل، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور تشہیری و کاروباری معاملات کو تکنیکی شعبے سے الگ کر دیا ہے۔
گورننس کمیٹی میں فرخ عتیق کو انسانی وسائل اور مالیات، شکیل شاہ کو محکمانہ رابطہ کاری اور رسائی، عامر ابراہیم کو کاروباری اور تشہیری معاونت، غلام علی ملاح کو سکول و کالج کی سطح پر کھیلوں کے فروغ جبکہ بریگیڈیئر (ر) اکمل عزیز کو ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔کمیٹی کے تمام ارکان اعزازی طور پر خدمات سرانجام دیں گے اور قومی کھیل کی ترقی کے لئے اپنی صلاحیتیں وقف کریں گے۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام ایک عبوری مگر واضح لائح عمل کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ہاکی کو نچلی سطح سے مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔فیڈریشن کو یقین ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور میرٹ کو فروغ ملے گا اور پاکستان ہاکی ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے گی۔









