پاکستان 2027ء میں کیریک کی سربراہی سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیار ہے،وفاقی وزیر احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان 2027ء میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (سی اے آر ای سی) کی سربراہی سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیار ہے

اولان باتور، منگولیا ۔29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان 2027ء میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون (سی اے آر ای سی) کی سربراہی سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیار ہے جبکہ سی اے آر ای سی کوریڈورز کو جدید اقتصادی راہداریوں میں تبدیل کرکے وسطی ایشیا کو عالمی منڈیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔25ویں سی اے آر ای سی وزارتی کانفرنس کے ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹرانسپورٹ روٹس کو صرف سڑکوں اور راستوں تک محدود رکھنے کے بجائے انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، ڈیجیٹل رابطوں، توانائی تعاون اور موسمیاتی لچک کو یکجا کرکے اگلی نسل کی اقتصادی راہداریوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیریک کوریڈورز 5 اور 6 کو وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب سے منسلک کرنے اور ان راستوں پر اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اب سوال صرف یہ نہیں کہ آیا کوئی ٹرک اس راستے سے گزر سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا کوئی کاروبار اس راستے کو قابل اعتماد، مسابقتی اور منافع بخش انداز میں استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی کوریڈورز کی تکمیل کیلئے سی اے آر ای سی سڑکوں کو اپ گریڈ کرنے، طورخم اور چمن میں جدید سرحدی سہولیات قائم کرنے، مجوزہ ایم ایل ون اپ گریڈیشن کے ذریعے ریلوے فریٹ کی استعداد بڑھانے اور ڈرائی پورٹس و سمندری بندرگاہوں کے ساتھ موثر رابطے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اہم مقامات پر لاجسٹکس اور پیداواری مراکز قائم کیے جائیں جہاں کولڈ سٹوریج، پیکیجنگ، گودام اور ہلکی صنعتوں کو فروغ دے کر ٹرانزٹ ٹریفک کو برآمدات، روزگار اور مقامی آبادی کیلئے معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کیریک خطے میں ڈیجیٹل کوریڈور کے قیام پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان سنگل ونڈو علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مرحلہ وار ڈیجیٹل انضمام کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کھیپ کی دستاویزات سرحد تک پہنچنے سے پہلے ہی جانچ مکمل ہونی چاہئیں۔احسن اقبال نے علاقائی توانائی تعاون اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ CASA-1000 جیسے منصوبے سرحد پار توانائی رابطوں کی صلاحیت کا مظہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئی سڑکوں، ریلوے اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو سیلاب اور شدید گرمی جیسے موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب ایک کوریڈور صرف کارگو ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی اور مواقع بھی منتقل کرے۔علاقائی اقدامات کے ذریعے مشترکہ فوائد یقینی بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکمل کوریڈورز کی مربوط منصوبہ بندی، سرحد پار تعاون میں اضافہ اور کاروباری اداروں و مقامی آبادی پر رابطوں کے اثرات کی باقاعدہ پیمائش ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سی اے آر ای سی ممالک کو ترجیحی سرحد پار منصوبوں کی نشاندہی کرکے انہیں مشترکہ معیار کے مطابق تیار کرنا اور سرمایہ کاری و تعمیراتی شیڈولز میں باہمی رابطہ پیدا کرنا چاہیے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک مناسب مواقع پر نجی سرمایہ کاری سمیت فنانسنگ کے حصول میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔احسن اقبال نے سرحدوں کو مشترکہ سروس کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپریٹنگ اوقات میں ہم آہنگی، پیشگی الیکٹرانک معلومات، مربوط طریقہ کار اور بار بار کی جانے والی چیکنگ میں کمی سے تجارت کو سہل بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی تاخیر، ترسیل کے دورانیے، مقامی روزگار، چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کی شرکت اور خواتین و نوجوانوں کیلئے مواقع جیسے اشاریوں کو بھی باقاعدگی سے جانچا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب ایک تاجر سفر کے دورانیے کی پیشگی پیشگوئی کرسکے، ایک کسان اپنی فصل ضائع کیے بغیر دور دراز منڈی تک پہنچ سکے اور کوریڈور کے ساتھ آباد کمیونٹیز بھی اس خوشحالی میں شریک ہوں۔ اسی طرح رابطوں کو مسابقتی صلاحیت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل 25ویں سی اے آر ای سی وزارتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جس کا موضوع ’’25 سالہ شراکت داری، مستقبل کی مشترکہ تشکیل‘‘ تھا، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان 2027ء میں سی اے آر ای سی کی سربراہی سنبھالنے اور 26ویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کا منتظر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور بحری راستوں کے سنگم پر واقع ہے اور ملک اپنی جغرافیائی پوزیشن کو مضبوط رابطوں، تجارت، ڈیجیٹل انضمام اور علاقائی ویلیو چینز کے ذریعے مشترکہ علاقائی ترقی کا محرک بنانا چاہتا ہے۔

دریں اثناء 25ویں سی اے آر ای سی وزارتی کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے CAREC Capital Markets Development Forum (CMDF) اور ASEAN Capital Markets Forum (ACMF) کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔مفاہمتی یادداشت کا مقصد سی اے آر ای سی اور آسیان کے رکن ممالک کی کیپٹل مارکیٹس کے درمیان تعاون اور رابطوں کو فروغ دینا، تجربات اور معلومات کے تبادلے، ریگولیٹری تعاون اور علاقائی مالیاتی انضمام کیلئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

مزید خبریں