کراچی۔9دسمبر (اے پی پی):پاک بحریہ میں 49 واں ہنگور ڈے اس تاریخی واقعے کی یاد میں منایا گیا جب پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور نے 1971 کی جنگ میں بھارتی بحریہ کے آبدوز شکن جہازککری کو غرقاب کیا اور دوسرے جہازکرپان کو شدید نقصان پہنچایا۔1971 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی آبدوزہنگورکی بے مثال جرات اوربہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے پاک بحریہ ہر سال 9دسمبر …
پاک بحریہ میں49واں ہنگور ڈے جوش و جذبے سے منایا گیا

مزید خبریں
کراچی۔9دسمبر (اے پی پی):پاک بحریہ میں 49 واں ہنگور ڈے اس تاریخی واقعے کی یاد میں منایا گیا جب پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور نے 1971 کی جنگ میں بھارتی بحریہ کے آبدوز شکن جہازککری کو غرقاب کیا اور دوسرے جہازکرپان کو شدید نقصان پہنچایا۔1971 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کی آبدوزہنگورکی بے مثال جرات اوربہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے پاک بحریہ ہر سال 9دسمبر کو ہنگورڈے کے طور پر مناتی ہے ۔ اس سال بھی یوم ہنگور کے حوالے سے پاک بحریہ کی جانب سے کراچی ڈاکیارڈ میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ کمانڈر پاکستان فلیٹ ، ریئر ایڈمرل نوید اشرف نے تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔آبدوز ہنگور 1971 کی جنگ میں پاک بحریہ کے لئے فخر کا باعث رہی اور اس کی دلیرانہ کارروائی نہ صرف ایک شاندار معرکہ تھی بلکہ پاک بحریہ کی حیرت انگیز جنگی حکمت عملی کی آئینہ دارتھی جس کے نتیجے میں دشمن کا فریگیٹ سمندر برد ہوا اور 1971 کے دوران پاکستان پر مسلط کردہ بھارتی جارحیت کو مئوثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا۔ یہ دلیرانہ کاروائی بھارت کے مغربی ساحل پر واقع ڈیوہیڈ کے جنوب مشرق میں وقوع پزیر ہوئی۔ یہ واقعہ بحری تاریخ میں اس لئے بھی ممتاز حیثیت کا حامل ہے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد یہ پہلا موقع تھاجب ایک روایتی سب میرین کے ہاتھوں کسی بھی جنگی بحری جہاز کو پہلی بار غرقاب کر دیا گیا.ہنگور کے اس وقت کے کمانڈنگ آفیسر کمانڈر احمد تسنیم اور پیشہ ور انہ عملے کی حکمت عملی کے باعث دشمن آبدوز کا سراغ لگانے میں ناکام رہا اور سب میرین مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد کراچی واپس پہنچ گئی۔تقریب کے دوران وائس ایڈمرل (ر)احمد تسنیم (اس وقت سب میرین ہنگورکے کمانڈنگ آفیسر) کا ویڈیو پیغام نشر کیا گیا۔ ایڈمرل احمد تسنیم نے عمومی طور پر مادر وطن کے دفاع اور خاص طور پر پاک بحریہ کے لئے خدمات پر آبدوز کے بہا در عملے کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہنگور پاک بحریہ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔آبدوز ہنگور فرانس سے حاصل کردہ پاک بحریہ کی ڈیفنی کلاس آبدوزوں میں سے پہلی تھی۔ سنہ 1969 میں آبدوز کو پاک بحریہ میں کمیشن کیا گیا اور یہ 2006 تک پاک بحریہ کے لئے اپنی خدمات سر انجام دیتی رہی۔ اب یہ آبدوز پاکستان میری ٹائم میوزیم کراچی میں ہمت اور فتح کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ ہمت کے اس لازوال کارنامے کے اعتراف میں ہنگورکے بہادر عملے کو چار ستارہ جرات، چھ تمغہ جرات اور سولہ امتیازی اسناد سے نوازا گیا۔ یہ پاک بحریہ کے کسی بھی ایک یونٹ کو عطا کیا گئے بہادری کے آپریشنل ایوارڈز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔پاک بحریہ کی سب میرین فورس اپنی روایت کو ہمیشہ برقرار رکھتی ہے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پاک بحریہ کی سب میرین فورس کی بہادری کا مظاہرہ پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سب میرین فورس کی بحری حدود میں ہر وقت موجودگی دشمن کی جانب سے کسی بھی ممکنہ سمندری جارحیت کو روکنے میں اہم کردار رکھتی ہے۔پاک بحریہ کی آبدوزیں ہمیشہ دشمن کے دل میں دہشت کا باعث بنی رہتی ہیں۔تقریب میں پاک بحریہ کے آفیسرز ، سی پی اوز / سیلرز اور نیوی سویلین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔








