اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):فلپائن میں مقیم پاکستانی بزنس ٹائیکون عبدالرزاق صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دواسازی اور بائیولوجیکل شعبے میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہےجس کے لیے دونوں ممالک کو جدید ادویات، ویکسینز اور طبی آلات پر توجہ دے کر تجارت میں تنوع لانے کی ضرورت ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز اِنک کے …
پاک–فلپائن دواسازی تجارت میں ایک ارب ڈالر کی صلاحیت موجود ہے، عبدالرزاق صدیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):فلپائن میں مقیم پاکستانی بزنس ٹائیکون عبدالرزاق صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دواسازی اور بائیولوجیکل شعبے میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہےجس کے لیے دونوں ممالک کو جدید ادویات، ویکسینز اور طبی آلات پر توجہ دے کر تجارت میں تنوع لانے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز اِنک کے صدر عبدالرزاق صدیق نے کہا کہ دواسازی اور بائیولوجیکل مصنوعات تجارت میں تنوع کے لیے انتہائی امید افزا شعبے ہیں اور ان شعبوں میں تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور صحت کے شعبے میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ فلپائن کی ایک دواساز کمپنی نے دوطرفہ تجارت اور صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد میں ذیلی دفتر قائم کیا ہے۔ اس ضمن میں سیکنڈ ورلڈ ٹریڈرز پاکستان (جو 2 ورلڈ ٹریڈرز اِنک کی ذیلی کمپنی ہے) نے 5 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں اپنے دفتر کا افتتاح کیاجو ویکسینز اور بائیولوجیکل مصنوعات میں تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔عبدالرزاق صدیق نے اس پیش رفت کو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا اور سپلائی چین تعاون،ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کے مواقع کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی ابتدائی طور پر پاکستان میں ٹیٹنس ٹاکسوئیڈ ویکسین کی 10 ملین خوراکیں درآمد کرے گی تاکہ قلت پر قابو پایا جا سکے، جس کے بعد بتدریج مقامی پیداوار شروع کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ مستقبل کے منصوبوں میں ڈاؤ انسٹیٹیوٹ آف لائف سائنسز کے اشتراک سے اینٹی ریبیز سیرم کی تیاری، اینٹی کینسر ادویات اور اینٹی اسنیک وینم سیرمز کی پیداوار شامل ہے جن کا مقصد بالخصوص سندھ اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ فلپائن کے ساتھ معاشی روابط کو بھی گہرا کریں گے۔
تجارتی اعداد و شمار بتاتے ہوئے عبدالرزاق صدیق نے کہا کہ پاکستان نے 2025 میں فلپائن کو تقریباً 30 ملین ڈالر کی دواسازی مصنوعات برآمد کیں، جن میں زیادہ تر ادویات شامل تھیں جبکہ 2020 میں مجموعی دوطرفہ تجارت 160 ملین ڈالر رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگست 2025 کے بعد سے پاکستان کی فلپائن کو برآمدات 8.79 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔دواسازی اور بائیولوجیکل شعبے میں 30 سال سے زائد تجربے کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا گروپ فلپائن کی بڑی بایولوجیکل کمپنیوں میں شامل ہےجو دنیا بھر میں جان بچانے والی ویکسینز فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی کمپنی کی ویکسینز نے پاکستان میں اب تک 10 ارب روپے کی فروخت کی ہے جبکہ فلپائن میں نمونیا ویکسی نیشن پروگرامز میں بھی نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان میں ٹیٹنس ویکسین متعارف کرائی جائے گی، بچوں کے لیے جان بچانے والی ویکسینز فراہم کی جائیں گی، کینسر کی ادویات انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہوں گی اور عالمی کمپنیوں کے مقابلے میں معیاری مگر سستی ادویات کو فروغ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جان بچانے والی ادویات کے معاملے میں کوئی لالچ نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری ترجیح منافع نہیں بلکہ انسانیت ہے۔
عبدالرزاق صدیق نےکہا کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کیے جائیں گے جہاں ابتدائی طور پر کچھ مصنوعات درآمد کی جائیں گی اور بعد ازاں مقامی پیداوار کی صلاحیت کو فروغ دیا جائے گاجبکہ ویکسینز اور بایولوجیکل مصنوعات کے لیے عالمی معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دواسازی اور بایولوجیکل برآمدی صلاحیت موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہے،پاکستان کو کم از کم ایک ارب ڈالر کی دواسازی اور بائیولوجیکل برآمدات حاصل کرنی چاہئیں اور ہم اس ہدف کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے عبدالرزاق صدیق نے ایک تاریخی منصوبے کا اعلان کیاجس کے تحت پاکستان کے ہر شہری کو بالخصوص دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو، مفت اینٹی وینم سیرم فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد سانپ کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر بروقت اینٹی وینم نہ ملنے کے باعث سالانہ تقریباً 1 لاکھ 38 ہزار اموات ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی ان قابلِ تدارک اموات کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں سانپ کے زہر کا مفت سیرم یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
عبدالرزاق صدیق نے کہا کہ انسانی جانیں بچانا ایک دینی فریضہ ہے، یہ اللہ کا پیغام ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور جانیں بچانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں اور میرے بچے مستقبل میں بھی اس مشن کو جاری رکھیں گے،اس اقدام کو ماہرینِ صحت اور سماجی حلقوں کی جانب سے پاکستان میں عوامی صحت کی بہتری اور قابلِ تدارک اموات میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔








