راولپنڈی۔26نومبر (اے پی پی):آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وہ بدھ کو قومی سلامتی ورکشاپ (این ایس ڈبلیو 27) کے شرکا سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے بدھ کو پاک …
پاک فوج، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قومی سلامتی ورکشاپ کے شرکا سے گفتگو

مزید خبریں
راولپنڈی۔26نومبر (اے پی پی):آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاک فوج، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وہ بدھ کو قومی سلامتی ورکشاپ (این ایس ڈبلیو 27) کے شرکا سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے بدھ کو پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا۔
اس موقع پر انہیں پاکستان کی علاقائی اور داخلی سکیورٹی صورتحال اور مجموعی قومی سلامتی کے ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دورے کے دوران وفد نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ آرمی چیف نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت، سرحد پار دہشت گردی اور ہائبرڈ خطرات نے علاقائی ماحول کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں جاری دہشت گردی اور اطلاعاتی جنگ جیسے چیلنجز کے باوجود پاک فوج، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ایک اہم اور باوقار ملک ہے اور اپنا جائز مقام حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور کمٹمنٹ نے دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت قومی یکجہتی ہے اور ہم سب مل کر دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے ۔ اس موقع پر شرکا کو ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری اقدامات، خصوصاً اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں سرحدی کنٹرول کو مزید مؤثر بنانے اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی سے متعلق تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا، جس کا مقصد داخلی نظم و ضبط اور قومی مفادات کا تحفظ ہے ۔ آرمی چیف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہر پاکستانی شہری کی سلامتی، تحفظ اور ملکی سرحدوں کا دفاع پاک فوج کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج، وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مکمل معاونت جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے قومی سطح پر ہم آہنگی اور ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔واضح رہے کہ ’’نیشنل سکیورٹی ورکشاپ۔27‘‘نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) کا ایک نمایاں پروگرام ہے، جس میں ارکانِ پارلیمنٹ، سینئر سول و عسکری افسران، تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔








