پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل،باہمی تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں
پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل،باہمی تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں

مزید خبریں
، سینئر تجزیہ کار رشید صافی
اسلام آباد۔10مئی (اے پی پی):سینئر تجزیہ کار اور پاک چین و افغانستان امور کے ماہر رشید صافی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات محض سفارتی روابط سے آگے بڑھ کر ایک مضبوط ’’آہنی دوستی‘‘اور اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں جو گزشتہ 75 برسوں سے اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کی روشن مثال ہیں۔’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1951ء میں آغاز پانے والے ان تعلقات نے وقت کے ساتھ خطے کی سیاست، معیشت اور دفاعی توازن پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
سرد جنگ کے دور میں پاکستان کا چین کو تسلیم کرنا ایک اہم سفارتی فیصلہ تھا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1960ء کی دہائی میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے شروع ہونے والا تعاون آج چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) تک پہنچ چکا ہے، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم حصہ ہے۔
اس منصوبے کے تحت توانائی، موٹرویز، مواصلات اور بندرگاہوں سمیت بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ترقی ہوئی جبکہ صنعتی زونز کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔دفاعی تعاون کے حوالے سے رشید صافی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور بحری منصوبوں میں بھی گہری شراکت داری موجود ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس میں صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ تعلقات مزید وسعت اختیار کریں گے۔
رشید صافی نے زور دیا کہ پاکستان کو چین کے ترقیاتی ماڈل سے سیکھتے ہوئے پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام پیدا کرنا ہوگا تاکہ ملک مضبوط معاشی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو پر تیزی سے کام جاری ہے جس کے معیشت پر دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے








