پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس خوش آئند،چینی سرمایہ کاروں کے تعاون سے بلوچستان کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے،تاجر/زمیندار

کوئٹہ۔ 07 جنوری (اے پی پی):بلوچستان کے تاجروں اور زمینداروں نے پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کے تعاون سے بلوچستان کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے، صوبے میں زرعی پیداوار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور چینی سرمایہ کاری کے نتیجے میں مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی …

کوئٹہ۔ 07 جنوری (اے پی پی):بلوچستان کے تاجروں اور زمینداروں نے پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کے تعاون سے بلوچستان کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے، صوبے میں زرعی پیداوار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور چینی سرمایہ کاری کے نتیجے میں مقامی زمینداروں اور کاشتکاروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔ان خیالات کا اظہار تاجروں اور زمینداروں نے محکمہ زراعت بلوچستان کے زیرِ اہتمام چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں صوبائی سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی، ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ مسعود احمد بلوچ، پروجیکٹ ڈائریکٹر گرین پاکستان انیشی ایٹو محمد آصف کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل توسیع جمعہ خان ترین، ڈپٹی سیکرٹری زراعت مرزا احتشام اللہ، ڈاکٹر قاسم کاکڑ، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کے نمائندوں جمعہ خان بادیزئی اور صلاح الدین خلجی، سمال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حاجی ولی نورزئی اور سید عبدالخالق آغا، زمیندار ایکشن کمیٹی کے ایگزیکٹو ممبر کاظم خان اچکزئی، سید صدیق اللہ آغا، نصیب اللہ کاکڑ سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران صوبائی سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی، گرین پاکستان انیشی ایٹو کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد آصف کاکڑ اور ڈاکٹر قاسم کاکڑ نے شرکا کو 19 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاکستان۔چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کانفرنس ستمبر 2025 میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی کامیاب پاکستان۔چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کا تسلسل ہے، جس نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو نئی جہت دی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس کانفرنس سے پاکستان، بالخصوص بلوچستان کی زرعی پیداوار اور برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کانفرنس میں مجموعی طور پر 300 بزنس شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے، جن میں 150 پاکستانی اور 150 چینی تاجر شامل ہوں گے۔ محکمہ زراعت بلوچستان زمینداروں، تاجروں اور چینی سرمایہ کاروں کے درمیان سرمایہ کاری تجاویز کے لیے پل کا کردار ادا کرے گا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ کانفرنس میں زرعی کیمیکلز اور ان پٹس، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ایگری ٹیک سلوشنز، فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن، گوشت اور پولٹری انڈسٹری، ڈیری ان پٹس اور پراسیسڈ ڈیری مصنوعات، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت، پیکجنگ، پراسیسنگ اور برآمدات، اینیمل فیڈ، فشریز اور آبی زراعت، کولڈ چین سسٹمز، زرعی لاجسٹکس اور فوڈ گریڈ پیکجنگ میٹریلز و آلات جیسے اہم ذیلی شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ کانفرنس میں زرعی و غذائی شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ تحقیقی اداروں، جامعات، صنعتی تنظیموں اور متعلقہ سرکاری و عوامی اداروں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔اس موقع پر تاجروں اور زمینداروں نے کہا کہ زمیندار ایکشن کمیٹی اس سے قبل بھی ایسے منصوبوں پر کام کر چکی ہے اور زرعی پیداوار میں اس نوعیت کی سرمایہ کاری مثبت پیشرفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ بہترین موقع ہے کہ زرعی پیداوار کی ویلیو چین کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں زرعی پیداوار موجود ہے، تاہم ایکسپورٹ کوالٹی کے حصول کے لیے ویلیو چین کی اشد ضرورت ہے۔تاجروں نے مزید کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو انڈسٹریل زونز تک رسائی اور مکمل تحفظ فراہم کرنے سے صوبے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں سالانہ سیب کی پیداوار 12 لاکھ ٹن، انگور کی 6 لاکھ ٹن اور ٹماٹر کی 4 لاکھ ٹن ہے، تاہم زرعی اعداد و شمار کی درستگی اور جدید بنیادوں پر ترتیب ناگزیر ہے۔