پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تقریب کا انعقاد، پالیسی سازوں اور پاکستان میں مقیم چینی برادری کے نمائندوں کی شرکت
پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تقریب کا انعقاد، پالیسی سازوں اور پاکستان میں مقیم چینی برادری کے نمائندوں کی شرکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے شیخ احمد حسن سکول آف لاء (ایس اے ایچ ایس او ایل) میں قائم پرویز حسن سینٹر فار چائنیز لیگل سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطحی تقریب منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی مضبوطی، وسعت اور مستقبل کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔تقریب میں علمی، قانونی، کاروباری و صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، پالیسی سازوں اور پاکستان میں مقیم چینی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں میں ایک جامع شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس کی بنیاد سٹریٹجک تعاون، مشترکہ علاقائی مفادات اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر قائم ہے۔
تقریب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عالمی سطح پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں مسلسل سفارتی روابط کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جبکہ تعلیمی اور دیگر ادارے،پاکستان اور چین کے درمیان علمی تبادلے، قانونی تحقیق اور سرحد پار تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس موقع پر لاہور میں چین کے قونصل جنرل سن یان بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ ان کی موجودگی نے پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کی اہمیت اور ان کے تعلیمی، ثقافتی اور ادارہ جاتی شعبوں تک پھیلائو کی عکاسی کی۔دوطرفہ تعاون کے جذبے کو مزید مستحکم بناتے ہوئے لاہور میں چین کے قونصل خانے کی معاونت سے قانون کے شعبے کے دونمایاں طلبہ کو تعلیمی وظائف دیئے گئے۔
یہ وظائف تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں لائبہ عابد (کلاس 2027) اور جلال ترار (کلاس 2027)کو دیئے گئے۔ ان وظائف کو تعلیم اور مستقبل کے قانونی ماہرین کی تربیت کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی علامت قرار دیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل سن یان نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے دائرہ کار میں مسلسل وسعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اپنے اپ گریڈڈ 2.0 مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے تحت اقتصادی ترقی، تکنیکی جدت، ماحول دوست ترقی، علاقائی روابط اور تعلیمی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا۔تقریب میں ہونے والی گفتگو کے دوران پاکستان اور چین کے تعلقات کے طویل المدتی سفر کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مسلسل فروغ کو سراہا گیا۔
شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیمی ادارے اور مختلف ادارہ جاتی پلیٹ فارم مکالمے کے تسلسل اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سینٹر کے بانی پرویز حسن نے پاکستان اور چین کے تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے،سڑکیں، بندرگاہیں اور اقتصادی راہداریاں تعمیر کرتے ہیں تاہم قوموں کے درمیان پائیدار شراکت داری کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط ادارے، علمی و باہمی تحقیق اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہے۔ت
قریب میں لمز کے ریکٹر شاہد حسین، پرووسٹ ڈاکٹر طارق محمود جدون، شیخ احمد حسن سکول آف لاء کی ڈین ڈاکٹر صدف عزیز، سپیڈاف کے چیف آپریشن آفیسر لی ژی جیان، نورنکو انٹرنیشنل کوآپریشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تان زی ڈونگ، چائنیز بزنس کونسل کے صدر اور ژونگ لان ٹریڈنگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او چن چیان جیانگ، یو این آئی سروسز انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی و سی ای او میکس ما، فارمن کرسچن کالج کے پروفیسر ایمیریٹس اور سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ گورننس کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید شفقت، پاکستان کے سابق ہائی کمشنر سفیر (ر) شاہد ملک، سینٹر فار انٹرنیشنل انویسٹمنٹ اینڈ کمرشل آربیٹریشن کے بانی رانا سجاد، اے ایچ ایم اینڈ کمپنی کے پارٹنر سلمان حنیف راجپوت اور ایچ بی ایل میں ریجنل ہیڈ چین کوریج سینٹرل علی ایمان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تعلیمی اداروں اور مختلف اداروں کے درمیان مسلسل روابط، مکالمے اور مشترکہ علمی سرگرمیوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں لمز دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی ادارہ جاتی اور بین الثقافتی روابط کے فروغ کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔








