پرائیویٹ سیکٹر مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے ، صدر آئی سی سی آئی
پرائیویٹ سیکٹر مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے ، صدر آئی سی سی آئی
اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاجر برادری موجودہ معاشی چیلنجز بالخصوص مشرق وسطیٰ کے جاری تنازعات کے تناظر میں پوری طرح آگاہ ہے اور اس صورتحال سے کامیابی سے گزرنے کے لئے حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے کیلئے بھی پرعزم ہے۔منگل کو چیمبر ہاؤس میں تاجر رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرائیویٹ سیکٹر مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے تاہم کاروباری شعبہ سے متعلق فیصلے ملک بھر کے چیمبرز اور تجارتی اداروں کی قیادت کے ساتھ بامعنی مشاورت کے ذریعے کئے جائیں۔انہوں نے تیل کے موجود بحران کے پیش نظر مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کے حکومتی فیصلہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے کاروباری اوقات کار میں کمی اور تجارتی سرگرمیاں اور قومی آمدنی بھی متاثر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری سے پیشگی مشاورت سے پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ اس کے آپریشنز براہ راست متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلہ پر نظرثانی کی جائے اور اس طرح کی پالیسیوں کو نافذ کرنے سے پہلے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ سردار طاہر محمود نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تاجروں اور صنعتکاروں کے مفادات کے تحفظ اور کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے والی پالیسیوں کے لئے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے ایک مضبوط اور موثر پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دیتا رہے گا۔
سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ معاشی منظر نامہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی بچت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن اس کا نفاذ عملی اور کاروبار دوست ہونا چاہئے تاکہ اقتصادی سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ سے بچا جا سکے۔نائب صدر عرفان چوہدری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بازار کی جلد بندش چھوٹے تاجروں اور روزانہ اجرت سے کمانے والوں پر منفی اثر ڈالے گی جو شام کے کاروباری اوقات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے متوازن پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا جو قومی چیلنجز سے نمٹنے کے دوران معاش کا تحفظ کرتی ہیں۔









