کراچی۔ 21 فروری (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر اور زرعی ماہر ڈاکٹر اسماعیل کنبھار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی ‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے ہوئے پروفیسر کنبھار نے کہا کہ بھارت معرکہ حق میں بری شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور …
پروفیسر اسماعیل کنبھار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاھدے کی معطلی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا

مزید خبریں
کراچی۔ 21 فروری (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر اور زرعی ماہر ڈاکٹر اسماعیل کنبھار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی ‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے ہوئے پروفیسر کنبھار نے کہا کہ بھارت معرکہ حق میں بری شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور 1960 کی دہائی میں عالمی بینک کی ثالثی میں طئے پانی والے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کیا ہے جو کہ نہ صرف غیر آئینی بلکہ غیر اخلاقی قدم ہے۔ معاہدے کے تحت برصغیر پاک و ہند کے تین مشرقی دریائوں راوی، ستلج اور بیاس ہر بھارت جبکہ دریائے سندھ، جھلم اور چناب پر پاکستان کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے جبکہ کوئی فریق یک طرفہ طور پر اس معاھدے سے روگردانی نہیں کر سکتا ہے۔
انہوں نے ہفتہ کے روز ’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ ایک باقاعدہ اور لازمی بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ڈاکٹر کنبھار کا کہنا تھا کہ بھارت کی مودی حکومت سیاسی مقاصد کے تحت معاہدے پر عمل درآمد روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت پاکستان یا بھارت میں سے کوئی بھی ملک دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیر نہ تو معاہدہ ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔انہوں نے کہا کہ مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) میں ہونے والی کارروائی کے دوران بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی گئی کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات عالمی ذمہ داریوں سے متصادم ہیں۔ پی سی اے نے دونوں ممالک اور عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ طے شدہ طریقہ کار کے تحت مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کریں۔
ڈاکٹر کنبھار نے خبردار کیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی سے پاکستان کے ماحولیاتی نظام، نہری ڈھانچے اور زرعی پیداوار پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً پنجاب اور سندھ کے وہ علاقے جو دریائے سندھ کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت مشرقی دریا — راوی، ستلج اور بیاس — بھارت کو جبکہ مغربی دریا — سندھ، جہلم اور چناب — پاکستان کو دیے گئے ہیں۔
یہ آبی تقسیم پاکستان کی زرعی معیشت اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پانی کی فراہمی میں کسی بھی رکاوٹ سے زرعی پیداوار، دیہی روزگار اور ملکی معیشت متاثر ہو سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔پروفیسر کنبھار نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے اور معاہدے میں موجود سفارتی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرے، بصورت دیگر پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔








