پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے،شوکت یوسفزئی

پشاور۔18نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبائی کابینہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، اپر اور لوئر کرم میں عموماً اور سنٹرل کرم کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے …

پشاور۔18نومبر (اے پی پی):صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں صوبائی کابینہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، اپر اور لوئر کرم میں عموماً اور سنٹرل کرم کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے قبائلی ضلعوں میں تعینات آفیسران پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ملا زمین عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنا تے ہو ئے علاقائی مسائل کا حل مقامی روایات اور ملکی قوانین کے امتزاج کے ساتھ یقینی بنائیں،تیز ترین ترقی یقینی بنانے کے لئے ترقیاتی کاموں کے معیار پر ہرگز سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبائلی ضلع کرم کی ترقی کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت اور ضلعی انتظامیہ اور افسران سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔جائزہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کرم ڈاکٹر آفاق وزیر سمیت ضلعی محکموں کے سربراہان شریک ہوئے اور صوبائی وزیر کو ضلع میں جاری اور نئے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ قبائلی ضلع کرم میں انضمام اور تمام صوبائی اداروں کی ضلع تک توسیع کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ضلع کرم کی ترقی کے لئے مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر 58ارب روپے کے منصوبے منظور ہوئے ہیں، جن میں تیز رفتار عملدرآمد پروگرام (اے آئی پی) کے تحت 22ارب روپے، ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 23ارب روپے کے منصوبے اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ ضلع کے لئے مجموعی ترقیاتی حکمت عملی میں صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، اے آئی پی کے تحت ضلع کرم کے شعبہ صحت کے لئے 2.9 ارب روپے جبکہ شعبہ تعلیم کے لئے 1.1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پاک فوج کی نگرانی میں ضلع کرم میں مختلف نوعیت کے 199 منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ 146منصوبوں پر کام جاری ہے۔صوبائی وزیر کا خالی آسامیاں پر کرنے کے لیے کام تیز کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہناہے کہ سکولوں اور صحت مراکز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سٹاف کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا ئیگا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تعلیمی ماحول ہی پسماندگی کو ختم کرسکتا ہے، مردانہ اور زنانہ کالجز اور ٹیکنیکل کالج کی تعمیر وقت پر یقینی بنائی جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے علاقے میں ہی اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ ضلع کرم بارڈر تجارت، جنگلات، زراعت، اور پھلوں کی پیداوار کے لئے منفرد مقام رکھتا ہے، ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کریں گے، بارڈر تجارت اورصحت سیاحت جیسے شعبوں کی ترقی کے لئے سڑکوں کی تعمیر اور مرمت پر خطیر رقم خرچ کررہے ہیں۔ رابطہ سڑکوں کی تعمیر سے ضلع کرم کے دور افتادہ علاقوں کا ضلعی ہیڈکوارٹر اور ضلع کا دوسرے ضلعوں کے ساتھ نہ صرف امدورفت آسان ہو جائے گی بلکہ تجارت کے مواقع بھی میسر ہونگے۔ یاد رہے کہ اس وقت ضلع کرم میں 103 کلومیٹر کی مختلف سڑکوں پر کام مکل کیا جاچکا ہے جبکہ 20 کلومیٹر کی دو سڑکوں پر کام جاری ہے جبکہ تقریباً 34 کلومیٹر کی پانچ مختلف سڑکوں کی تعمیر کے لئے رقم مختص کی جا چکی ہے۔