لاہور۔20 جولائی (اے پی پی )پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان کا وزیر اعظم،وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی وزیر صحت کی کارگردگی پر انہیں خراج تحسین،صوبائی وزیر صحت کہتی ہیں حکومتی اقدامات کے باعث کورونا وائرس پر قابو پا رہے ہیں ہے۔محکمہ تعلیم کی جانب سے شتر بے مہارنجی تعلیمی اداروں کو قانونی شکنجہ میں لانے کے لئے جلد نیا ایکٹ پنجاب اسمبلی کا منظوری کے لئے پیش کردیا …
پنجاب اسمبلی کا اجلاس حکومتی ارکان کا وزیر اعظم عمران خان،وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی وزیر صحت کی کارگردگی پر انہیں خراج تحسین

مزید خبریں
لاہور۔20 جولائی (اے پی پی )پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان کا وزیر اعظم،وزیر اعلی پنجاب اور صوبائی وزیر صحت کی کارگردگی پر انہیں خراج تحسین،صوبائی وزیر صحت کہتی ہیں حکومتی اقدامات کے باعث کورونا وائرس پر قابو پا رہے ہیں ہے۔محکمہ تعلیم کی جانب سے شتر بے مہارنجی تعلیمی اداروں کو قانونی شکنجہ میں لانے کے لئے جلد نیا ایکٹ پنجاب اسمبلی کا منظوری کے لئے پیش کردیا جائے گا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز 1 گھنٹہ 33 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئر میں میاں محمد شفیع کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے بارے میں سوالوں کے جوابات متعلقہ وزیر ڈاکٹر مراد راس نے دئیے ،وقفہ سوالات سے قبل کورونا وائرس سے شہید ہونے والے ڈاکٹرز۔نرسسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ،ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لئے دعا کی گئی ، اجلاس میں ممبران کی عدم دلچسپی رہی، اجلاس کے آغاز پر ارکان اسمبلی کی ایوان میں مایوس کن حاضری صرف 12 سے 15 ارکان ہی موجودتھے، صوبائی وزیر ڈاکٹر مراد راس نے انکشاف کیا کہ 1993 میں بنائی گئی سکول کی عمارت 2000 میں مخدوش قرار دے دی گئی۔ صرف سات سال میں سکول کی عمارت کو کیسے مخدوش قرار دیا گیا۔پچھلے 10 سال ن لیگ کی حکومت رہی اسوقت اس سکول کو کیوں نہیں بنایا گیا۔صوبائی وزیر نے ممبران کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو قانونی دائرے میں لانے کیلئے نیا ایکٹ لا رہی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں میں فیسوں ،یونیفارم،بکس،اور دیگر معاملات پر قانون سازی کی جائے گئی۔ نئے ایکٹ کے تحت نجی تعلیمی ادارے والدین سے زائد فیس وصول نہیں کر سکیں گے۔اگر نیا ایکٹ آ چکا ہوتا تو ایل جی ایس واقع پر متعلقہ استاد کو معافی کی بجائے جیل جانا پڑتا۔دس سال ن لیگ کی حکومت رہی لیکن تعلیمی اداروں کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی، تحریک انصاف کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس اہم معاملے پر قانون سازی کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف جتنی بھی شکایات آئیں ان پر عمل کرتے ہوئے سائل کے مسئلہ کو حل کیا گیا ،جتنی شکایات آئیں سب پر عملدرآمد کرایا گیا ہے۔ جتنی دیر تک کورونا وائرس ہے تب تک پرائیوٹ سکولز 20 فیصد کم وصول کریں گے۔پرائیوٹ سکول کے حوالے سے نیا ایکٹ لا رہے ہیں۔23سکولز کی خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخ کی 36سکولوں کو چھ لاکھ روپے کے جرمانے کیے ہیں۔4286شکایات وصول ہوئیں،سکولز میں انتظامیہ نے ماسک بھی اپنے لوگو سے فروخت کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ ایل جی ایس ٹیچر کے معاملہ پر ہم کاروائی نہیں کر سکتے تھے۔ جو سابق حکومت نہیں کر سکی ہے وہ ہم کر کے دکھائیںگے۔انہوں نے کہا کہ نیا ایکٹ اسی لیے لا رہے ہیں کے ایل جی ایس ٹیچرز سمیت دیگر معاملات پر قانون کے مطابق کاروائی کی جا سکی گی،ملک ارشد کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیز42 ہزار کتب کو مارکیٹ سے ریموو کیا ہے۔پبلشرز پر بھی پابندی عائد کی ہے۔نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد کی اشاعت کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمپٹیں گے۔اس حوالے سے قانون سازی بھی کر رہے ہیں۔صحت پر عام بحث کا آغازڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی تقریر سے کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ کورونا وائرس کا پنجاب میں پہلا کیس دس مارچ کو رپورٹ ہوا تھا۔کورونا وائرس پر میٹنگز بلائی گئیں اور موثر پالیسی بنائی گئی۔آغاز میں 600 ٹیسٹ لیبس ہو رہے تھے آج 12 ہزار سے زائد ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود ہے۔پنجاب میں ابتک تک 6 لاکھ 50 ہزار کورونا ٹیسٹ کیے گے ہیں۔پاکستان فخر سے کہہ سکتا ہے کے کورونا وبا 90 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔معیشت کو بہتر رکھنے کیلئے حکومت نے مارکیٹس،بازار کھولے رکھے۔کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے کیلئے 12 ارب روپے ہمیں دئیے گے تھے پنجاب میں صحت پر سب نے تنقید کی ہے لیکن سب سے بہتر صحت کا نظام پنجاب کا ہے۔آج پنجاب میں ہمارے پاس دس ہزار ہسپتالوں میں بیڈز موجود ہیں۔گذشتہ سال ہم نے 9 ہزار آلات خریدے ہیں جس کی وجہ سے کورونا وائرس سے ہم لڑتے رہے ہیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ وزیر اعظم نے ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کو سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ہماری حکومت نے پنجاب میں مدر چائلڈ ہسپتالز کا آغاز کر دیا ہے۔پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی مدر چائلڈ ہسپتال بنائے جائیں گے۔ہم نے پل اور سٹرکیں تو نہیں بنائی ہیں لیکن عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔آئندہ سال کیلئے 12 ارب روپے صحت سہولت کارڈز کیلئے مختص کیے گے72 لاکھوں خاندانوں میں صحت سہولت کارڈز تقسیم کیے جائیں گے۔50 لاکھ خاندان صحت سہولت کارڈز سے مستفید ہو چکے ہیں۔ 800 محکمہ صحت کے ملازمین کی کمی تھی پچھلے دور میں سالوں سے پروموشن التوا کا شکار تھیں۔ہماری حکومت نے 800 التوا کا شکار پروموشن کو پروموٹ کر دیا ہے۔ڈاکٹر یاسمین راشدنے بحث کو سمیٹے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو دکھ ہے کے پاکستان سے کورونا ختم ہو رہا ہے۔ہمسائے ملک انڈیا میں دیکھیں کے کورونا وائرس کے دوران کیا حالات ہیں۔پاکستان کی اکانومی رہے گی تو پاکستان رہے گا۔حکومت نے ایکٹمرا انچکشن میں خصوصی ڈسکاونٹ کرایا ہے۔کونسا ہسپتال ہے جہاں مریضوں کو سہولتیں نہیں مل رہیں ہیں۔پنجاب میں ٹیسٹ لیب کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ہر ٹیسٹ پر حکومت کو پانچ ہزار روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ایکسپو سینٹر پر جتنی تنقید کی گئی سن سن کے کان پک گے ہیں۔ ایکسپو سینٹر میں بجلی کے بل سمیت صرف سات کروڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں۔ایکسپو سینٹر میں بیڈز،کمبل سمیت تمام چیزیں قابل استعمال ہیں۔ کورونا ختم ہو گا تو تمام چیزیں پنجاب کے ہسپتالوں میں انسٹال کر دی جائیں گی۔ایکسپو سینٹر کے اخراجات کا حساب مکمل ویب سائٹ پر موجود ہے۔جب تک کورونا وائرس رہے گا اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ہمارے آنے سے پہلے 28 ہزار آسامیاں خالی تھیں جو ہم نے پر کیں۔جب کہ حکومت نے 6000 ہزار مزید نوکریاں دی ہیں۔سیفٹی بہتری کیلئے تحریک انصاف کی حکومت کام کر رہی ہے۔ڈینگی پر نظر ہے جبکہ پولیو جہاں مریض ہے وہاں حکومت کو زیادہ توجہ ہیں۔ن لیگ کے ہیلتھ کارڈز پر نواز شریف کی تصویر تھی ہمارے کارڈ پر کسی کی تصویر نہیں ہے۔ہم نے ہیلتھ کارڈز منصفانہ طریقے سے تقسیم کیے ہیں۔سابق صوبائی وزیر ون لیگی رکن اسمبلی خواجہ سلمان رفیق نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر مصطفی کمال کو ایوارڈ دیا بہت اچھا کام کیا ہے۔لیکن کورونا سے لڑنے والے تمام ڈائرکٹرز،نرسز کو سول ایوارڈز دئے جائیں تاکہ تاریخ میں یاد رکھا جائے۔حکومتی رکن اسمبلی سیمابیہ طاہر نے کہا کہ اپوزیشن ممبران ہمیشہ شہباز شریف کے گن گاتے ہیں لیکن وہ ان کا فرض تھا۔حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ترجیجی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ہیں۔ کورونا وائرس کے مشکل وقت میں اپوزیشن حکومت کا ساتھ دیتی تو کورونا وائرس پر قابو جلد پا لیا جاتا۔لیکن اپوزیشن نے کورونا وائرس پر بھی سیاست کی ہے۔بحث میں خواجہ عمران نذیر،خلیل طاہر سندھو،رانا محمد اقبال، عظمیٰ کاردار، شاہدہ احمد اور خورشید ثاقب نے بھی حصہ لیا۔ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج بروز منگل سہ پہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔








