محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام سکیورٹی انتظامات کیلئے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جاری کردہ ہدایات کے مطابق پنجاب بھر میں امام بارگاہوں اور جلوسوں کیلئے فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ جلوس و مجالس مقررہ اوقات میں روایت و اجازت کے مطابق منعقد ہوں گے۔ صرف منظور شدہ اور لائسنس یافتہ جلوس و مجالس کی اجازت ہوگی۔
پنجاب بھر میں امام بارگاہوں اور جلوسوں کیلئے فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب
لاہور۔5جون (اے پی پی):محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام سکیورٹی انتظامات کیلئے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جاری کردہ ہدایات کے مطابق پنجاب بھر میں امام بارگاہوں اور جلوسوں کیلئے فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔ جلوس و مجالس مقررہ اوقات میں روایت و اجازت کے مطابق منعقد ہوں گے۔ صرف منظور شدہ اور لائسنس یافتہ جلوس و مجالس کی اجازت ہوگی۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ حساس مقامات، تنصیبات، مارکیٹس اور رش والی جگہوں پر خصوصی سکیورٹی دی جائے گی۔ بڑے جلوسوں کے راستوں اور ملحقہ علاقوں کا مکمل معائنہ ہوگا جبکہ ٹریفک کی روانی کیلئے موثر انتظامات اور امام بارگاہوں سے 500گز کے فاصلے پر پارکنگ بنائی جائے گی۔ ترجمان نے بتایا کہ نیاز، لنگر اور سبیلوں کی سپیشل برانچ، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں سے جانچ لازمی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور جسمانی تلاشی کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ تمام حساس مجالس و جلوسوں کیلئے مختلف سطحوں پر سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ خواتین عزاداران کیلئے خصوصی طور پر خواتین پولیس اہلکار تعینات ہوں گی تاکہ فول پروف سکیورٹی کے ساتھ انہیں محفوظ ماحول بھی فراہم کیا جاسکے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا کہ مقررین کو کسی فرقے یا مسلک کے خلاف قابل اعتراض بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام مجالس و جلوسوں کی آڈیو ویڈیو کوریج یقینی بنائی جائے گی۔ حساس مقامات پر فلیگ مارچ اور دورے کیے جائیں گے۔
رضاکاروں کو سکیورٹی معاونت کیلئے تربیت دی جائے گی جبکہ ان کی تعیناتی سے قبل سپیشل برانچ سے کلیئرنس لازمی ہوگی۔ حساس جلوسوں کے راستوں پر ضرورت کے مطابق سگنل جیمرز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہوٹل، سرائے، گیسٹ ہاسز، بس اسٹیشنز اور کرائے کے گھروں کی نگرانی کیلئے ہوٹل آئی اور ٹریول آئی سسٹم استعمال کیا جائے گا۔ جلوس کے راستوں پر بازار اور دکانیں چیکنگ کے بعد بند رہیں گی اور سکیورٹی کیلئے سنائپرز تعینات کئے جائیں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ ایس ایچ اوز منتظمین سے تسلی بخش سکیورٹی انتظامات کا تحریری سرٹیفکیٹ لیں گے۔ پنجاب کے داخلی و خارجی راستوں پر افراد، گاڑیوں اور سامان کی مکمل تلاشی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ بین الصوبائی بارڈرز اور کچے کے علاقوں میں ڈرون سرویلنس کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح چینی باشندوں، فارن مشنز اور قونصل خانوں کے سکیورٹی پلان پر من و عن عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ تمام اضلاع ہنگامی صورتحال کیلئے جامع منصوبہ بندی مکمل کر کے محکمہ داخلہ کو بھجوائیں گے جبکہ آئی جی پنجاب روزانہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز، سرچ آپریشنز اور سرپرائز چیکنگ کی رپورٹس ارسال کریں گے۔ ترجمان محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ چوری شدہ گاڑیوں کا ڈیٹا موٹروے اور ٹریفک پولیس کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ہو سکے۔
اسی طرح اقلیتوں سمیت تمام عبادت گاہوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔ لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس ہوگی جبکہ پنجاب بھر میں آتشیں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہے۔ فورتھ شیڈول اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کڑی نگرانی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور امن عامہ کے خلاف مواد کی روک تھام کیلئے سائبر مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلانے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ عوام الناس بھی قابل اعتراض مواد واٹس ایپ نمبرز 03073087777اور 03073097777 پر رپورٹ کر سکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایات کی گئی ہے کہ اشتعال انگیز مقررین کی نشاندہی کے بعد ضلع بندی و زباں بندی کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ریسکیو 1122، بجلی اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جبکہ ہسپتال ہائی الرٹ رہیں گے اور فیلڈ ہسپتال و کلینکس آن ویل بھی اپنے مقامات پر تعینات ہوں گے۔ اہم واقعات کی بروقت رپورٹنگ اور ایکشن کیلئے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ کنٹرول رومز 24 گھنٹے فعال اور مرکزی کنٹرول روم سے منسلک ہوں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ محکمہ اطلاعات و ثقافت محرم الحرام سے قبل جامع آگاہی مہم چلائے گا جبکہ ستھرا پنجاب کے تحت صفائی کے بہترین انتظامات یقینی بنائے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جلوس و مجالس کے منتظمین پبلک سیفٹی ایپ کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مستقل رابطے میں آ سکتے ہیں۔ انتظامیہ کو ڈویژنل و ڈسٹرکٹ امن کمیٹیوں، بین المذاہب ہم آہنگی اور پبلک لائیزون کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز تحصیل مساجد کمیٹیوں کے اجلاس بلائیں گے جبکہ امام مسجد صاحبان امن و آگاہی کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں گے۔









