وزیراعلی پنجاب کے ویژن کے تحت "پنجاب ہیلتھ کنیکٹ” پروگرام کا آغاز کر دیا گیاہے۔پاکستانی نژاد اور غیر ملکی ڈاکٹرز اور سرجن اب پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیں گے۔
"پنجاب ہیلتھ کنیکٹ” پروگرام کا آغاز ،پاکستانی نژاد و غیر ملکی ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیں گے،محکمہ صحت

مزید خبریں
لاہور۔14جولائی (اے پی پی):وزیراعلی پنجاب کے ویژن کے تحت "پنجاب ہیلتھ کنیکٹ” پروگرام کا آغاز کر دیا گیاہے۔پاکستانی نژاد اور غیر ملکی ڈاکٹرز اور سرجن اب پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیں گے۔
اس پروگرام کے تحت اوورسیز پاکستانی اور بین الاقوامی ماہر ڈاکٹرز و سرجن پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں گے۔اس پروگرام کے تحت مقامی طبی عملے کو جدید مہارتوں کی تربیت بھی فراہم کریں گے۔ترجمان کے مطابق محکمہ صحت نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت "پنجاب ہیلتھ کنیکٹ” پروگرام کا آغاز کیا ہے۔اس منفرد اقدام کے ذریعے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے اوورسیز پاکستانی اور بین الاقوامی ماہر ڈاکٹرز، سرجنز اور طبی ٹیموں کو پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ اور ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں مختصر مدت کے لئے خدمات انجام دینے کی دعوت دی جائے گی۔یہ پروگرام پنجاب لوکل ہائرنگ ایکٹ 2025 کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایسے شعبوں میں عالمی معیار کی طبی مہارت فراہم کرنا ہے جہاں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کمی ہے۔اس پروگرام کے تحت آنے والے ماہرین جدید اور پیچیدہ علاج و سرجریز انجام دینے کے ساتھ ساتھ مقامی ڈاکٹرز، سرجنز، نرسز اور دیگر طبی عملے کو جدید طبی طریقہ علاج، نئی ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی عملی تربیت بھی فراہم کریں گے۔اس پروگرام سے نہ صرف مریضوں کو عالمی معیار کی طبی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی استعداد، مہارت اور علاج کے معیار میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
پروگرام کے شفاف اور مثر انتظام کے لئے ایک جدید آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے، جہاں رجسٹریشن، دستاویز کی تصدیق، تعیناتی، ادائیگیوں اور کارکردگی کی نگرانی سمیت تمام مراحل مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے۔دنیا بھر کے ایسے ماہر ڈاکٹرز درخواست دے سکتے ہیں جن کے پاس فیلوشپ کے بعد کم از کم تین سال کا کلینیکل تجربہ ہو۔خدمات انجام دینے کی کم از کم مدت سات دن مقرر کی گئی ہے۔ماہرین انفرادی طور پر یا اپنی مکمل کلینیکل ٹیم، بشمول نرسنگ اور دیگر معاون طبی عملے، کے ساتھ خدمات انجام دے سکیں گے۔پہلے مرحلے میں آٹھ سپر سپیشلٹیز کو پنجاب کے 12 ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ان ہسپتالوں میں آرتھو، کارڈیک، ایستھیٹکس، برنز، انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز لاہور، ملتان اور فیصل آباد کے چلڈرن ہسپتال شامل ہیں۔پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی تمام طبی خدمات اور علاج مریضوں کے لئے مکمل طور پر مفت ہوں گے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ "پنجاب ہیلتھ کنیکٹ” وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے اس ویژن کا عملی اظہار ہے کہ پنجاب کے ہر شہری کو اپنے ہی صوبے میں عالمی معیار کی طبی سہولیات میسر ہوں۔اس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی نژاد اور بین الاقوامی طبی ماہرین کی مہارت پنجاب کے عوام تک منتقل کی جا رہی ہے۔اس پروگرام کے تحت نہ صرف پیچیدہ امراض کے علاج میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے کہاکہ حکومتِ پنجاب صحت کے شعبے میں اصلاحات، جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ "پنجاب ہیلتھ کنیکٹ” طبی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور علمی تبادلے کے ذریعے صوبے کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ہر شہری تک معیاری، جدید اور مساوی طبی سہولیات پہنچانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔







