اسلام آباد ۔ 10 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پولیس اسٹیشنز میں خواتین کے مسائل کے فوری حل کرنے کے لئے باقاعدگی سے کھلی کچہری کا انعقاد ہونا چاہئے، امن و امان کے قیام کے لئے پولیس کا کردار نہایت اہم ہے،ملک کی ترقی کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں …
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا ”کمیونٹی پولیسنگ اینڈ پوسٹ کونفلکٹ پولیس ریفارم” کے موضوع منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 10 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پولیس اسٹیشنز میں خواتین کے مسائل کے فوری حل کرنے کے لئے باقاعدگی سے کھلی کچہری کا انعقاد ہونا چاہئے، امن و امان کے قیام کے لئے پولیس کا کردار نہایت اہم ہے،ملک کی ترقی کے لئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کو ”پاکستان میں کمیونٹی پولیسنگ اینڈ پوسٹ کونفلکٹ پولیس ریفارم” کے موضوع منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان کا آئین حکومت کو ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کی فراہمی کا پابند کرتا ہے اور حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے پولیس کا کردار نہایت اہم ہے اور ہمیں وقت کے ساتھ پولیس کے نظام میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، اس وقت ملک کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جنہں حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ مسائل ایسے ہیں جس کا پوری دنیا سامنا کررہی ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی ،اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی جیسے مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا جیسے علاقے میں بھی کمیونیٹی پولیسنگ کے موثر نظام کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام اور کمیونٹی پولیس کے درمیان بہترین ربطہ پیدا کرنے کی ضوررت ہے تاکہ مسائل کو ابتدائی طور پر حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین مارچ پر پتھرائو کرنے والوں کے خلاف شفاف تحقیقات ہونی چاہیں۔کانفرنس کے اختتام پر مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس میں غیر ضروری سیاسی مداخلت کا خاتمہ کی جائے، صوبائی اور ضلعی سطح پر پولیس کی کارکردگی جانچنے کے لئے غیر جانبدار کمیشن قائم کئے جائیں، پولیس میں بھرتی،تقرقی اور تبادلے کے نظام کو شفاف بنایا جائے، تھانے کے مالی،انسانی اور تیکنکی وسائل میں اضافہ کیا جائے، پولیس اہلکاروں سے 8گھنٹے سے زائد ڈیوٹی نہ لی جائے، ضلقی سطح پر اینٹی جینڈر سیل کرائم سیل قائم کیا جائے،ہر تھانے میں کم از کم دو خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے، پولیس تفتیش اور ٹریننگ کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے،ایس ایچ او کو کسی بھی تھانے سے کم از کم دو سال پہلے تبادلہ نہ کیا جائے۔









