اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ پولیس کا فرنٹ لائن فورس کی حیثیت سے امن و امان کی صورتحال مستحکم رکھنے میں اہم کردار ہے، شہریوں کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ وہ جمعہ کو پولیس سروس کی اے ایس پی کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ …
پولیس کا فرنٹ لائن فورس کی حیثیت سے امن و امان کی صورتحال مستحکم رکھنے میں اہم کردار ہے، وزیر داخلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ پولیس کا فرنٹ لائن فورس کی حیثیت سے امن و امان کی صورتحال مستحکم رکھنے میں اہم کردار ہے، شہریوں کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ وہ جمعہ کو پولیس سروس کی اے ایس پی کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال مستحکم رکھنے میں پولیس کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے پولیس فورس کی جانب سے ملک و قوم کی سلامتی و حفاظت کے لئے دی گئی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دور دراز علاقوں میں بھی پولیس کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں۔ پولیس کی روزمرہ معاملات کے حوالہ سے ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ لوگوں کی جان ومال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہر پولیس افسر کا فرض اور اولین ترجیح ہونا چاہئے، ہر افسر کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ بحیثیت ایک افسر اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ماتحت عملہ آپ کی عزت کرے اور اپنی خدمات بخوبی سرانجام دے تو آپ کو پیشہ وارانہ طور پر مثال بن کے دکھانا ہو گا۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے ٹریننگ اور دیگر مراحل کو کامیابی سے مکمل کرنے پر تمام افسران کو مبارکباد دی اور کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ سب اپنے فرائض جوش و جذبے کے ساتھ ساتھ بھرپور ذمہ داری سے سر انجام دیں گے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور افسران کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا اور اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران میں انعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر پولیس کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔








