پہلے ٹی ٹونٹی میں آسٹریلیا کے خلاف فتح، کپتان سلمان علی آغا کا اسپنرز کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان

لاہور۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے تین میچوں پر مشتمل ہوم سیریز کے پہلے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کے خلاف 22رنز کی سنسنی خیز فتح کے بعد اپنے اسپن بالنگ ڈپارٹمنٹ کو بھرپور سراہا ہے۔ جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے کینگروز کو شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔میچ کے بعد گفتگو کرتے …

لاہور۔29جنوری (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے تین میچوں پر مشتمل ہوم سیریز کے پہلے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کے خلاف 22رنز کی سنسنی خیز فتح کے بعد اپنے اسپن بالنگ ڈپارٹمنٹ کو بھرپور سراہا ہے۔ جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے کینگروز کو شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کپتان سلمان علی آغا نے موقف اختیار کیا کہ پہلے 10 اوورز کے بعد بیٹنگ مشکل ہو گئی تھی، اسی لیے انہیں یقین تھا کہ 169 رنز کا ہدف ان کے بہترین اسپنرز کی موجودگی میں کافی ثابت ہوگا۔ "یہ ایک بہترین مقابلہ تھا۔ ہم نے بلے بازی کا آغاز تو اچھا کیا لیکن اختتام ویسا نہ ہو سکا جیسا ہم چاہتے تھے۔

پہلے دس اوورز کے بعد گیند بلے پر رک کر آ رہی تھی جس سے بیٹنگ دشوار ہوئی، لیکن میرا ماننا ہے کہ ہماری بالنگ شاندار رہی۔سچی بات تو یہ ہے کہ میرے خیال میں 170رنز کافی تھے۔ جس پوزیشن میں ہم دس اوورز کے بعد تھے، شاید ہمیں 15 رنز مزید بنانے چاہیے تھے، لیکن مجھے علم تھا کہ اس پچ پر 170 کا مجموعہ دفاع کے لیے بہت ہے کیونکہ ہماری اسپن بالنگ غیر معمولی ہے۔”سلمان علی آغا نے اسپنرز، بالخصوص ابرار احمد کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے، جنہوں نے اپنے چار اوورز میں محض 10 رنز دے کر 2 اہم وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کو 146 رنز تک محدود کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

کپتان نے امید ظاہر کی کہ یہ شعبہ فروری 2026 میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ تک اسی طرح کی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھے گا۔اس میچ میں پاکستان کے بیٹنگ آرڈر میں ایک اہم تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں سلمان علی آغا خود نمبر 3 پر بیٹنگ کے لیے آئے جبکہ بابر اعظم کو چوتھے نمبر پر بھیجا گیا۔ کپتان نے تصدیق کی کہ وہ مستقبل میں بھی اسی پوزیشن پر کھیلیں گے کیونکہ وہ پاور پلے کے دوران اسپنرز پر غلبہ پانے کی مہارت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ: "جی ہاں، میں نمبر تین پر ہی کھیلوں گا۔ ہمیں توقع ہے کہ ہمیں اسپن کا زیادہ سامنا کرنا پڑے گا اور میرا ماننا ہے کہ میں پاور پلے میں اسپنرز کو بہتر کھیل سکتا ہوں۔ اسی لیے میں نے اوپر آنے کا فیصلہ کیا اور میں اسی پوزیشن پر برقرار رہوں گا۔