اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کوبتایاگیاہے کہ مجموعی ذخائرکاحجم تسلی بخش سطح پر ہیں جنہیں محفوظ درآمدی انتظامات اور جاری پیداوار کی بدولت معاونت مل رہی ہے ،درآمدی ٹرمینلز سے ریفائنریوں، سٹوریج تنصیبات اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک رسدی لائنز مستحکم اور منظم انداز میں کام کر رہی ہیں جس سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا تسلسل یقینی بنایا جا …
پیٹرولیم مصنوعات کے مجموعی ذخائرکاحجم تسلی بخش سطح پر ہیں ، پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کوبریفنگ
اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی کوبتایاگیاہے کہ مجموعی ذخائرکاحجم تسلی بخش سطح پر ہیں جنہیں محفوظ درآمدی انتظامات اور جاری پیداوار کی بدولت معاونت مل رہی ہے ،درآمدی ٹرمینلز سے ریفائنریوں، سٹوریج تنصیبات اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک رسدی لائنز مستحکم اور منظم انداز میں کام کر رہی ہیں جس سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا تسلسل یقینی بنایا جا رہا ہے۔عید کی تعطیلات کے بعد پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منگل کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں توانائی کی فراہمی کی مجموعی صورتحال اور عالمی تیل و گیس منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں قومی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی آئندہ رسد کے امکانات کا پیشگی اور توانائی کے پورے ویلیو چین میں خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیاگیا، شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے مجموعی ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں جنہیں محفوظ درآمدی انتظامات اور جاری پیداوار کی بدولت معاونت مل رہی ہے، درآمدی ٹرمینلز سے ریفائنریوں، ذخیرہ گاہوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس تک رسدی لائنز مستحکم اور منظم انداز میں کام کر رہی ہیں، جس سے ملک بھر میں فراہمی کا تسلسل یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس کے شرکاء کو ایندھن کی فراہمی کے لیے آنے والی لاجسٹکس اور سمندری آپریشنز کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ کارگو کی آمد کا سلسلہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور مارچ کے ساتھ ساتھ اب اپریل کے لیے بھی پیٹرول کے کارگو بڑی حد تک محفوظ کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید کھیپیں منگوانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ذخائر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس دوران ریفائنریاں معمول کے مطابق پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں اور خام تیل کی مؤثر پروسیسنگ کو یقینی بنانے کے لیے پیداواری صلاحیت کو بہترین سطح پر برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔اجلاس میں قومی ذخائر اور بین الاقوامی توانائی منڈیوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا گیا جس میں عالمی بینچ مارک قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤپرروشنی ڈالی گئی، کمیٹی نے عالمی قیمتوں کے نئے رجحانات اور ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے نوٹ کیا کہ حکومت بین الاقوامی اور مقامی منڈیوں کے درمیان قیمتوں کے فرق کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ متوازن اور بروقت پالیسی فیصلے کیے جا سکیں۔
اجلاس میں ملکی توانائی کے نظام میں عملی تیاری (آپریشنل ریڈی نیس) پر خصوصی زور دیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنریاں اپنی پیداواری صلاحیت کو بہترین سطح پر برقرار رکھیں تاکہ رسد کا استحکام برقرار رہے اور نظام میں ممکنہ کمزوریوں کو کم کیا جا سکے۔ اجلاس میں عالمی توانائی منڈیوں کے رجحانات اور ان جغرافیائی و سیاسی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جو عالمی سپلائی کی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔کمیٹی نے بین الحکومتی براہ راست تعاون کے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن کا مقصد رسد کی مضبوطی کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
شرکاء کو اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ متنوع ذرائع سے تیل کی فراہمی اور لاجسٹکس کے انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا، تاکہ خام اور ریفائن شدہ مصنوعات کی دستیابی، ذخیرہ کرنے اور ٹرانس شپمنٹ کے اختیارات وانتظامات کو بہتر بنایا جا سکے اور خریداری و مالیاتی نظام میں لچک پیدا کی جا سکے۔ یہ مشترکہ اقدامات بدلتی ہوئی مارکیٹ صورتحال میں توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹرمحمداونگزیب نے کہاکہ بروقت منصوبہ بندی، متنوع خریداری حکمتِ عملی اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان قریبی رابطے نے عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان کو اندرونِ ملک مستحکم سپلائی برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بین الاقوامی پیش رفت، ذخائر کی سطح اور سپلائی چین کی صورتحال کی مسلسل اور محتاط نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ بروقت اور مربوط پالیسی فیصلے ممکن بنائے جا سکیں۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے مارکیٹ کے استحکام اور قومی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا رہے گا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین (ورچوئل)، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری (ورچوئل)، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔









