پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی سے کاروباری لاگت اور عوامی مالی دباؤ میں واضح کمی آئے گی، پاکستان بزنس فورم

پاکستان بزنس فورم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی پر وزیراعظم شہباز شریف کے اقدام کو عوام، صنعت، تجارت اور معیشت کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔

اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی پر وزیراعظم شہباز شریف کے اقدام کو عوام، صنعت، تجارت اور معیشت کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔ چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم احمد جواد نے ہفتہ کو میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر تک اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر تک کمی انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف عوام کو براہِ راست ریلیف ملے گا بلکہ کاروباری لاگت، ٹرانسپورٹ اخراجات اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جس کے مثبت اثرات مجموعی معیشت پر مرتب ہوں گے۔احمد جواد نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا خاطر خواہ فائدہ عوام تک منتقل کر کے ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلیف فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کی جانب سے عوامی ریلیف کے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور آنے والے دنوں میں دیگر شعبوں میں بھی قیمتوں اور لاگت کے بوجھ میں کمی کے اقدامات سامنے آئیں گے۔پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور سفارتی توازن برقرار رکھنے میں پاکستان کے کردار کو تاریخ میں مثبت انداز میں یاد رکھا جائے گا، کیونکہ معاشی استحکام اور توانائی کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق علاقائی امن اور عالمی تیل منڈی کے استحکام سے ہے۔احمد جواد نے حکومت پر زور دیا کہ پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے بعد اب توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ عوام اور صنعت دونوں کو پائیدار بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف اور اضافی سرچارجز میں کمی ناگزیر ہے ۔ اگر حکومت توانائی کی لاگت میں حقیقی کمی لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے پیداواری لاگت، مہنگائی اور کاروباری مشکلات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو فنانس بل کی منظوری کے وقت ڈیری مصنوعات پر عائد جی ایس ٹی فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دودھ، دہی، پنیر اور دیگر بنیادی ڈیری مصنوعات عام آدمی کی روزمرہ غذائی ضروریات کا حصہ ہیں، اس لیے ان پر ٹیکس عائد کرنا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں بھی بنیادی غذائی اشیاء، خصوصاً ڈیری مصنوعات، کو عمومی طور پر ٹیکس سے استثنا حاصل ہوتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی اس بنیادی ضرورت پر جی ایس ٹی ختم کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔احمد جواد نے زرعی شعبے خصوصاً کپاس کی بحالی کو قومی معاشی ترجیح قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملکی کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے فوری جامع پالیسی اور سبسڈی پروگرام متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ کپاس کھپت تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ بیلز ہے، جبکہ ملکی پیداوار کم ہے جس کے باعث ملک کو بڑے پیمانے پر درآمدی کپاس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کی لاگت بڑھا رہی ہے بلکہ قیمتی زرمبادلہ کے ضیاع کا سبب بھی بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو دوبارہ کپاس کی کاشت کی طرف راغب کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ایک جامع سبسڈی پروگرام ترتیب دیا جانا چاہیے، جس میں معیاری بیج، زرعی مداخل، مالی سہولت، فصل کی مناسب قیمت اور مارکیٹ سپورٹ شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بروقت اقدامات کرے تو نہ صرف کپاس کی مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ درآمدی بل میں کمی اور برآمدی صنعت کو بھی بڑا سہارا مل سکتا ہے

مزید خبریں