پی ایس بی نے ہاکی پرولیگ کے آسٹریلیا ٹور کے دوران ہونے والی بدانتظامی پر اپنی حتمی انکوائری رپورٹ جاری کردی

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے ہاکی پرولیگ کے آسٹریلیا ٹور کے دوران ہونے والی بدانتظامی پر اپنی حتمی انکوائری رپورٹ ویب سائٹ پر جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر لگائے گئے تمام سنگین الزامات دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ درست ثابت ہو گئے ہیں۔انکوائری رپورٹ میں ثابت ہوا ہے کہ قومی ٹیم کی روانگی 2 فروری کو طے تھی لیکن …

اسلام آباد۔22فروری (اے پی پی):پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے ہاکی پرولیگ کے آسٹریلیا ٹور کے دوران ہونے والی بدانتظامی پر اپنی حتمی انکوائری رپورٹ ویب سائٹ پر جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر لگائے گئے تمام سنگین الزامات دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ درست ثابت ہو گئے ہیں۔انکوائری رپورٹ میں ثابت ہوا ہے کہ قومی ٹیم کی روانگی 2 فروری کو طے تھی لیکن فیڈریشن نے ویزا درخواستوں میں تاخیر اور غلط معلومات فراہم کیں۔ اس غفلت کی وجہ سے نہ صرف ٹیم کی روانگی تاخیر کا شکار ہوئی بلکہ قومی خزانے کو 9.7 ملین روپے (97 لاکھ) کا اضافی نقصان اٹھانا پڑا جو منسوخ شدہ ٹکٹوں کی صورت میں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق پی ایس بی نے پی ایچ ایف کی درخواست پر ہوٹل بکنگ کے لیے 49,280 آسٹریلین ڈالر اور کھلاڑیوں کے ڈیلی الاؤنس کے لیے 1,610 امریکی ڈالر جاری کیے تھے۔ تاہم، فیڈریشن نے ہوٹل کی بکنگ کی بروقت تصدیق تک نہیں کی، جو کہ ان کی مالی غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انکوائری میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی ایچ ایف نے اب تک 25 کروڑ روپے کے فنڈز حاصل کیے ہیں، لیکن وہ ان فنڈز کا آڈٹ شدہ حساب دینے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فیڈریشن اپنے آئین کی شق 9.5 کے تحت فنڈز کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

رپورٹ نے پی ایچ ایف کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انتظامی معاملات اسپورٹس بورڈ کی ذمہ داری ہیں۔ دستاویزی ثبوتوں سے ثابت ہوا کہ ویزا، لاجسٹکس اور پلیئرز کی لسٹنگ مکمل طور پر فیڈریشن کی ذمہ داری تھی جس میں انہوں نے سنگین کوتاہی برتی۔اس رپورٹ کے بعد اب پاکستان ہاکی میں "احتساب کے عمل” کا آغاز ہو رہا ہے۔ پی ایس بی نے واضح کر دیا ہے کہ اب قومی ٹیم کے نام پر عوامی پیسے کا ضیاع برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس انکوائری کے ذریعے فیڈریشن کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے، جس سے مستقبل میں ہاکی کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اسے پروفیشنل بنیادوں پر استوار کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔پاکستان سپورٹس بورڈکا کہنا تھا کہ ہم ہاکی کی بہتری چاہتے ہیں، لیکن فیڈریشن کو اپنی انتظامی اور مالی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ اب ہر روپے کا حساب لیا جائے گا تاکہ قومی کھیل کا وقار بحال ہو سکے۔