اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی)نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)کے اشتراک سے ملک بھر میں ہاکی کلبوں کی جانچ پڑتال کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے جس کا مقصد آئندہ پی ایچ ایف انتخابات میں شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنانا ہے۔پی ایس بی کے ترجمان نے اس موقع پر بتایا کہ یہ عمل پی ایس بی کے منظور شدہ اور …
پی ایس بی کا ہاکی کلبوں کی جانچ پڑتال کا عمل شروع، پی ایچ ایف انتخابات سے قبل اصلاحاتی قدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جنوری (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی)نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)کے اشتراک سے ملک بھر میں ہاکی کلبوں کی جانچ پڑتال کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے جس کا مقصد آئندہ پی ایچ ایف انتخابات میں شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنانا ہے۔پی ایس بی کے ترجمان نے اس موقع پر بتایا کہ یہ عمل پی ایس بی کے منظور شدہ اور مشترکہ طور پر طے شدہ طریقہ کار کے تحت شروع کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد پی ایچ ایف کرے گی جبکہ نگرانی پی ایس بی کے پاس ہوگی۔
ترجمان کے مطابق ہاکی کلبوں کی جانچ پڑتال کا عمل پاکستان سپورٹس بورڈ کے دائرۂ اختیار میں باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے، یہ ایک شفاف، یکساں اور قواعد پر مبنی عمل ہے جو پی ایس بی اور پی ایچ ایف مشترکہ طور پر انجام دے رہے ہیں تاکہ منصفانہ اور قابلِ اعتماد انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ایف کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے خواہشمند تمام ہاکی کلبز چاہے وہ پرانے ہوں یا نئے، کو منظور شدہ معیار کے مطابق جانچا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے پی ایس بی اور پی ایچ ایف کے نمائندگان پر مشتمل قومی سکرونٹی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ترجمان کے مطابق کلبوں کا ڈیٹا آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کیا جا رہا ہے جبکہ پورے عمل پر پی ایس بی کو مکمل نگرانی اور آڈٹ رسائی حاصل ہے۔
جانچ پڑتال بنیادی طور پر دستاویزی ہوگی اور جہاں ضرورت ہو وہاں ایک بار اصلاح کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد اہل کلبوں کی فہرستیں جاری کی جائیں گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اعتراضات اور اپیل کے لئے بھی واضح نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت متاثرہ کلبز مقررہ مدت کے اندر اپنے اعتراضات جمع کرا سکیں گے۔ اپیلوں کی سماعت پہلے پاکستان ہاکی فیڈریشن کرے گی جبکہ حتمی فیصلہ پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے نامزد کردہ نمائندہ کرے گا۔پی ایس بی کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس مشترکہ طریقہ کار سے ہٹ کر کی جانے والی کسی بھی جانچ پڑتال یا انتخابی سرگرمی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔








