سمیڈا کی پاپام کے ساتھ 21ویں پاکستان آٹو پارٹس شوکیلئے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شراکت داری قائم

"چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے ادارے (سمیڈا) نے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے ساتھ 21ویں پاکستان آٹو پارٹس شو 2026 کے لیے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شراکت داری قائم کر لی ہے۔”

لاہور۔1اگست (اے پی پی):چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے ادارے (سمیڈا) نے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے ساتھ 21ویں پاکستان آٹو پارٹس شو 2026 کے لیے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شراکت داری قائم کر لی ہے۔

سمیڈا کا یہ تعاون وزارتِ صنعت و پیداوار اور ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے طے کردہ اسٹریٹجک سمت کے مطابق مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت کے تسلسل کا حصہ ہے تاکہ قومی اقتصادی اہداف کے حصول میں موثر کردار ادا کیا جا سکے۔پاکستان آٹو پارٹس شو کا انعقاد 18 سے 20 ستمبر تک ایکسپو سینٹر لاہور میں ہوگا۔وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے سمیڈا اور پاپام کے مابین تعاون کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم، سمیڈا کے بورڈ اراکین، چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہاں گیر سیٹھ، پاک سوزوکی کے سربراہ ہیروشی کاوامورا اور پاپام کے نمائندوں نے شرکت کی۔معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے ایم ایس ایم ایز کو بااختیار بنانا اور صنعتی ویلیو چینز کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہاپاکستان کی آٹوموٹیو صنعت نے غیرمعمولی استحکام اور ترقی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان آٹو شو جیسے پلیٹ فارمز مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ، جدت کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ آٹو شو کو ایک "عالمی معیار کی شاندار نمائش” بنایا جانا چاہیے، جس میں بزنس ٹو بزنس روابط، مفاہمتی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ملکی معیشت میں موثر کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نجی شعبے کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس نمائش کو تاریخی کامیابی بنانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرے۔ہارون اختر خان نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ وہ پاپام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے اور مختلف سفارت خانوں اور ایم ایس ایم ایز کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے نمائش کے دوران موثر بزنس میچ میکنگ کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایم ایس ایم ایز کو بہتر مارکیٹ رسائی، مضبوط کاروباری روابط اور علاقائی و عالمی ویلیو چینز میں شمولیت کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار سیف انجم نے کہا کہ اس نمائش کا بنیادی مقصد مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو عالمی مارکیٹ میں متعارف کرانا اور انہیں بین الاقوامی صنعت سے روابط استوار کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا، پاپام، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو مشترکہ طور پر اس تقریب کے مقاصد کے حصول کے لیے کام کرنا چاہیے۔سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہانگیر سیٹھ نے کہا کہ سمیڈا آٹوموٹیو شعبے کو پاکستان کے متحرک ترین صنعتی شعبوں میں شمار کرتی ہے، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی قیادت میں ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آٹو پارٹس اور انجینئرنگ صنعت کی بنیاد بڑی تعداد میں ایم ایس ایم ایز پر مشتمل ہے۔ پاپام کے ساتھ اس اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے سمیڈا ان اداروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور ملکی و بین الاقوامی کاروباری مواقع تلاش کرنے کے لیے موثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

مزید خبریں