"ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور خود بھارت میں پیلٹ گنز کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔”
پاکستان ،بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور خود بھارت میں پیلٹ گنز کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے، طاہر حسین اندرابی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اگست (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے پاکستان ،بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور خود بھارت میں پیلٹ گنز کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے، بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں 2016 سے 2018 کے دوران خاص طور پر پیلٹ گنز کا استعمال بڑے پیمانے پر ہوا اور بعض صورتوں میں اس کا استعمال آج بھی جاری ہے۔
اس اقدام کو عالمی سطح پر نمایاں انداز میں اجاگر کیا گیا اور اس کی شدید مذمت کی گئی۔ہفتہ کو اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک اہم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پیلٹ گنز کے استعمال کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افراد بینائی سے محروم ہوئے،یہ ایک ایسا حقیقت پر مبنی ریکارڈ ہے جو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 کی رپورٹس میں بھی اس معاملے کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی گئی۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کی،متاثرین کی بحالی، علاج اور ان کی مشکلات کو بھی مختلف رپورٹس میں درج کیا گیا۔طاہر حسین اندرابی نے کہاجہاں کہیں بھی پیلٹ گنز استعمال کی جائیں، خواہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہو یا خود بھارت میں، یہ ایک قابلِ نفرت عمل ہے اور پاکستان اس کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کنونشن برائے شہری و سیاسی حقوق جو اقوام متحدہ کا ایک اہم انسانی حقوق کا کنونشن ہے میں بھی اس بات پر توجہ دلائی گئی ہے کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کو کس حد تک جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پیلٹ گنز کے استعمال کو ہجوم پر قابو پانے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا تاہم اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت، عالمی رپورٹس اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی دستاویزات میں اچھی طرح ریکارڈ پر موجود ہے۔







