عوامی خدمت کسی سیاسی نعرے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان

"ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت، ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر آواز اٹھانا اور ریاستی اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے عوامی فلاح کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔”

کوئٹہ۔ 01 اگست (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت، مسائل کے حل کے لیے مؤثر آواز اٹھانا اور ریاستی اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے عوامی فلاح کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو کوئٹہ کے نواں کلی کشمیر کالونی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ شہریوں کو درپیش مسائل متعلقہ اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھاتے رہیں گے تاکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کشمیر کالونی کو درپیش بنیادی سہولیات، بالخصوص بجلی، پانی، انفراسٹرکچر اور دیگر عوامی مسائل سے وہ بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کیسکو حکام سے رابطہ کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ علاقے میں بجلی کی فراہمی کے حوالے سے ضروری تکنیکی تخمینہ اور قانونی تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ مسئلے کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کسی سیاسی نعرے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے، اسی جذبے کے تحت وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مسائل کو متعلقہ اداروں اور فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا تاکہ دستیاب وسائل اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ان کا حل ممکن بنایا جا سکے۔سیدال خان ناصر نے کہا کہ عوامی نمائندوں اور شہریوں کے درمیان مضبوط رابطہ جمہوری نظام کی بنیاد ہے، اسی لیے ان کے دفتر کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں اور ہر شہری بلا جھجھک اپنے مسائل سے آگاہ کر سکتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سینیٹ کے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق عوامی مفادات کے تحفظ، وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ اور عوامی فلاح سے متعلق امور کو متعلقہ آئینی و انتظامی فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھاتے رہیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے،عوامی اجتماع پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماوں جہانگیر خان خروٹی اور طیبہ ثاقب نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں