"آرٹس کونسل آف کراچی کے زیرِ اہتمام معروف گلوکار جمال اکبر کی یاد میں حسینہ معین ہال میں پروقار تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں فن و ثقافت سے وابستہ شخصیات، گلوکاروں، موسیقاروں، صحافیوں، ادیبوں، اہلِ خانہ اور مداحوں نے شرکت کی۔”
آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام معروف گلوکار جمال اکبر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

مزید خبریں
کراچی۔ 01 اگست (اے پی پی):آرٹس کونسل آف کراچی کے زیرِ اہتمام معروف گلوکار جمال اکبر کی یاد میں ایک پروقار تعزیتی اجلاس حسینہ معین ہال میں منعقد ہوا،جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ فن و ثقافت سے وابستہ شخصیات، گلوکار، موسیقار، صحافی، ادیب، اہلِ خانہ اور مداحوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
جاری اعلامیہ کے مطابق تقریب کی نظامت کے فرائض نعمان خان نے انجام دیئے۔ تقریب سے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، میوزک کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین شاہ، ڈرامہ کمیٹی کے چیئرمین شہزاد رضا نقوی، امجد رانا، سعادت علی جعفری، زیبا شہناز، وسیع قریشی، اسپیشل ایونٹ کمیٹی کے چیئرمین اقبال لطیف، معروف موسیقار اظہر حسین، صحافی اختر علی اختر، ڈاکٹر ہما میر،اختر درگاہی، شازیہ عالم اور مرحوم کی صاحبزادی کومل اکبر نے اظہار خیال کرتے ہوئے جمال اکبر کی فنی خدمات، انسان دوستی، شائستگی، موسیقی سے وابستگی اور ان کی یادگار شخصیت کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پرصدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل میں تعزیتی اجتماعات کی روایت اس لیے قائم کی گئی تاکہ فن و ادب سے وابستہ شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں یاد رکھا جائے اور تخلیقی برادری ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں سماجی فاصلے بڑھ گئے ہیں، اسی لیے آرٹس کونسل نے یہ سلسلہ شروع کیا جہاں فنکار، ادیب اور ثقافتی شخصیات ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمال اکبر نہ صرف ایک بہترین گلوکار بلکہ انتہائی محبت کرنے والے، باوقار اور بااخلاق انسان بھی تھے، جن کے تعلقات صرف موسیقی تک محدود نہیں تھے بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد سے بھی ان کے گہرے روابط تھے۔ محمد احمد شاہ نے کلاسیکی موسیقی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری ثقافتی وراثت ہے جس کی حفاظت اور سرپرستی ناگزیر ہے۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم جمال اکبر کے درجاتِ بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔








